واقعات صحیحہ — Page 24
۲۴ فرماتے ہیں کہ شمس الہدایت کے صفحہ ۸۱ میں نیاز مند نے علم اور فقر میں لاف زنی کی ہے۔ناظرین صفحہ مذکور کے ملاحظہ فرمانے کے بعد انصاف کر سکتے ہیں کہ آیا لاف زنی ہے اپنے اصل 9966 9966 بارے میں یا تہدید ہے بمقابلہ اُس کے جو اجماع کو رانہ ” حرب نادان " بے شرم بے حیا۔علمائے یہود ازالہ۔ایام اسح۔میں دربارہ علمائے سلف و خلف شکر اللہ سعیہم کے مرزا صاحب نے دیانت اور تہذیب سے لکھا ہے اور تفروقی فہم القرآن کا دعویٰ کیا ہے۔آپ اس اشتہا کے صفحہ ۳ کے اخیر پر باریک قلم سے لکھتے ہیں۔اگر وہ اپنی کتاب میں جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں تھی الخی لاف زنی کی کیفیت تو ناظرین کو ملاحظہ صفحہ مذکورہ سے معلوم ہو جائے گی۔بھلا آپ یہ تو فرمائیے کہ جب آپ اپنی دعوت میں مامور من اللہ ہیں تو پھر لاف زنی پر اس دعوت کی بنا ٹھیرانی قول بالمتناقضین نہیں تو کیا ہے۔مرزا صاحب نیاز مند کو مع علمائے کرام کے کسی قسم کا عنا دیا حسد جناب کے ساتھ نہیں مگر کتاب اللہ وسنت رسول صلعم باعث انکار ہے۔انصاف فرماویں مثل مشہور کا مصداق نہ بنیں ( نالے چور تے نالے چترا) ظاہر تو عشق محمدی صلعم ) اور قرآن کریم سے دم مارنا اور در پردہ کیا بلکہ علانیہ تحریف کتاب وسنت کرنی۔اور پھر اس کمال پر ملتفی نہ رہنا بلکہ اوروں کو بھی اس کمال کے ساتھ ایمان لانے کی تکلیف دینی بھلا پھر علمائے کرام کیسے خاموش بیٹھے رہیں۔آپ اپنے اشتہار میں جو کچھ بڑے زور وشور سے ارشاد فرما چکے ہیں۔اگر بلحاظ اس کے کچھ بھی لکھا جاوے تو داخل گستاخی اور مور د عتاب اہل تہذیب نہیں ہوسکتا۔مگر تا ہم لوگوں کی ہنسی سے شرم آتا ہے۔اس سے زیادہ آپ کے اوقات گرامی کی تضیع نہیں کرتا ہوں فقط۔پیر صاحب کا جواب تو ہم نے نقل کر دیا ہے مگر پیر صاحب کے جواب کا ضمیمہ جو اُس کے ساتھ ہی ایک اشتہار میں مولوی غازی صاحب کی طرف سے شائع ہوا اُس کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پیر صاحب ہرگز تفسیر القرآن میں مرزا صاحب کے ساتھ مقابلہ کرنا نہیں چاہتے اور یہ صرف اُنہوں نے ٹالنے کا ایک طریق اختیار کیا ہے ہم اُس