واقعات صحیحہ — Page 129
۱۲۹ غرض یہ اعتقاد رکھنا از بس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ نے جہاں یہ زلزلہ فلکن خبر دی اس کے ساتھ ایک خوشخبری بھی سنائی۔یہی سبب ہے کہ تم پڑھتے ہو ان نوشتوں میں جو آجکل کی توریت و انجیل کی کل تاریخوں سے بدرجہا زیادہ معتبر ہیں یعنی حدیث کی بزرگ کتابوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موعود مسیح پر اپنا سلام بھیجا اور اپنی امت کو تاکید فرما دی کہ جو اسے پائے آپ کی طرف سے اس پر سلام پڑھ دے۔بڑا افسوس اور نادانی ہے کہ ایسے با ترتیب مجموعہ اور تو اتر اور مسلمات قومی سے انکار کیا جائے اگر چہ اس امر کے ثبوت کہ کہاں اور کس طرح خدا نے مسیح موعود کا ذکر قرآن کریم میں کیا ہے بہت سے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ تحفہ گولڑوی میں ان کا اکثر حصہ عنقریب طالبان حق کی نظر سے گزرے گا مگر میں دو ایک باتوں پر اکتفا کرنا چاہتا ہوں۔سنو! ایک طرف خدا تعالیٰ نے فرمایا اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً۔اس میں خدا تعالیٰ نے صاف بتلایا کہ محمدی سلسلہ بالکل موسوی سلسلہ کے مطابق اور مشابہ ہوگا۔پھر سورہ نور میں فرمایا۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُو الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ۔اس میں بتایا کہ مومنوں کا استخلاف اس طرح ہوگا جیسے پہلے لوگوں کا ہوا۔یہاں بھی مشابہت کے اظہار کے لئے وہی کما کا لفظ وار د کیا ہے تا کہ دونوں سلسلوں کی مثیلیت پر مہر لگ جائے۔اب یہ مسلم اور سورج سے زیادہ روشن بات ہے کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کی خلافت کا سلسلہ چودہ سو برس کے بعد جناب حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام پر ختم ہوا۔اس بنا پر کس قدر ضروری تھا کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ خلافت بھی چودھویں صدی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم ہوتا۔چنانچہ وہ عملاً ہوا اور خدائے عالم الغیب کے کلام کے صدق پر مہر لگ گئی۔اب بتاؤ کیا ضروری نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا اور خدا تعالیٰ کے کلام کی سچائی اسی راہ سے تمام قوموں پر واضح ہوتی۔خواہ کوئی اور ہزاروں آدمی آویں مجدد ہوں یا مامور ہوں کچھ ہو مگر یہ تو سب ضروری تھا کہ یہ وعدہ استخلاف ضرور ہی پورا ہوتا یعنی ضروری تھا کہ محمدی سلسلہ کا آخر بھی اسی طرح مسیح موعود ہوتا جس طرح موسوی سلسلہ خلافت کا آخری سرا مسیح ابن مریم ہوا۔پھر خدا تعالیٰ خطبہ الہامیہ کے ضمیمہ میں بھی اس نازک مضمون پر خوب روشنی ڈالی گئی ہے جو عنقریب شائع ہوگا۔منہ