واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 128 of 142

واقعات صحیحہ — Page 128

۱۲۸ کے لئے تجھے اکیلے میں یہ جوش ہے اور دنیا میں کوئی نہیں جسے یہ جوش بخشا گیا ہے اگر خدا تجھے ضائع کر دے تو اس نے اپنے دین کو ضائع کر دیا۔بریکار ہیں سب کی کوششیں جو تیری ہلاکت چاہتی ہیں۔بھولے ہوئے ہیں وہ دل جو تجھ سے لڑتے ہیں کہ تو خدائے وند عالم کا لگا نہ مرسل اور آسمانی حربہ ہے جسے اس نے اسلام کی حفاظت کے لئے صدیوں کے بعد تیار کر کے بھیجا ہے۔سید مرحوم کے وجود کی ضرورت اور آپ کے کمالات کے اثبات میں زور دیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کی سعی کو بہتر جانتا ہے جس کی بنا اخلاص پر ہو اور ثواب و عقاب کی میزان اس یگانہ کے ہاتھ میں ہے وہ جو کچھ تھے اسلام اور مسلمانان کے لئے برکت تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اور قرآن کریم کی چال چال نہ تھی انہوں نے کفر اور لعنت کے ساتھ کبھی مقابلہ نہیں کیا اور قرآن کریم اور حامل قرآن علیہ صلوات الرحمن کا پاک اسوہ لوگوں میں پیدا کرنے کی انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی۔نصرانیت سے جان توڑ کرار کردهت باندھکر کبھی انہوں نے جنگ نہیں کی۔ولیم میور کی کتاب کا جواب خطبات در حقیقت ایسا رکیک عذر ہے جسکی نسبت یہ کہنا اس کی داد دینا ہے کہ کفر کے پاؤں پڑ کر مصالحت کی درخواست کی ہے۔انہوں نے تقویٰ طہارت کے پھیلانے کے لئے سر تو ڈسعی کبھی نہیں کی۔اگر یہ کہو کہ ان کے مقاصد میں یہ باتیں داخل نہیں تھیں اور یوں اہل مذہب یا حامیان کفر سے ان کی وہ صلح نہیں رہ سکتی تھی جس کی بنا پر وہ اپنے ذہن میں قرار دیئے ہوئے کام ان سے لینا چاہتے تھے تو میں اسے تسلیم کرتا ہوں اور میں تجربہ اور بصیرت سے اعتقاد کرتا ہوں کہ وہ محض جسمانی آدمی تھے ان کی روح تو ایشیا کی تھی مگر یورپ کے قالب میں جا کر ڈھلی تھی اور انکے پیش نظر وہی مقاصد تھے جو اہل یورپ کے پیش نظر ہیں۔پھر یہ کس قدر سوء ادب اور شوخی اور کفران ہے کہ ان کے وجود کو خدا تعالیٰ کے موعود اور نور اور مامور کے مقابل رکھا جائے جس کی فطرت اور استعداد انبیاء علیہ السلام کی فطرت اور استعداد سے مشابہ واقع ہوئی ہے۔اللہ اللہ قرآن کریم تو نصاریٰ کے فتنہ سے خبر دار کرنے کے لئے اول میں، وسط میں اور آخر میں منہ پھاڑ پھاڑ کر دہائی دے اور اس فتنہ کے مقابلہ کی تاکید کرے اور سید صاحب اور ان کے چیلے نادانی سے یہ کہیں کہ ان مباحثات میں پڑنا ضروری نہیں۔