واقعات صحیحہ — Page 2
ایک تازہ واقعہ کی مثال دے کر لوگوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ اس وقت کے امام اور صحیح اور مہدی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے۔مگر ان لوگوں کے ایسا کر دکھانے پر ہمیں چنداں افسوس نہیں کیونکہ ان کے یہ افعال بھی مرسل من اللہ کی تصدیق اور تائید کر رہے ہیں بلکہ اگر یہ لوگ ایسا نہ کریں تو اول تو یہ شبہ پڑتا ہے کہ جب علمائے زمانہ خود اصلاح پر تھے تو پھر مجدد کی کیا ضرورت تھی اور دوسرا یہ کہ جب اس زمانہ کے علماء کے متعلق پہلے سے یہ نشان مقرر کیا گیا تھا کہ وہ امام مہدی کی مخالفت کریں گے تو پھر ان کا مخالفت نہ کرنا امام کی صداقت کو شبہ میں ڈال دیتا۔پس کوئی تو خوشی سے امام کی خدمت میں مصروف ہوتا ہے اور جو یوں نہیں مانتا تو اس سے جبراً خدا تعالیٰ اپنے صادق بندے کی تائید میں کام نکلواتا ہے۔کیونکہ وہ سلسلہ خدا کا اپنا قائم کیا ہوا ہوتا ہے۔اَفَغَيْرَ دِینِ اللهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَ كَرُهَا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ۔(آل عمران : 84) کیا یہ الہی سلسلہ کو چھوڑ کر اوروں کو پسند کرتے ہیں۔یہ یاد رکھیں کہ کیا آسمان اور کیا زمین سب الہی سلسلہ کی تائید میں سرنگوں ہیں کوئی خوشی سے اس کام میں مصروف ہے اور کسی کی گردن پکڑ کر جبراً اس کام میں لگایا گیا ہے۔اور انجام کا رسب خدا کی طرف جائیں گے اور اپنے عملوں کا پھل پائیں گے۔میرے سامنے کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام زمان کی خدمت با برکت میں اس بات کا ذکر آیا کہ علماء نے کیوں مخالفت کی تو حضور نے فرمایا کہ ہمارے متعلق نشانات تین طور سے پورے ہو رہے ہیں۔بعض نشان تو خدا تعالیٰ بغیر کسی انسانی ہاتھ کے درمیان میں لانے کے دکھاتا ہے مثلاً کسوف خسوف کا ماہ رمضان میں نشان اور بعض نشان خدا ہمارے ہاتھوں سے کراتا ہے۔مثلاً آتھم اور لیکھرام کا نشان کہ بعد مباحثہ اور مطالبہ اور دعا اور اشتہارات کے واقع ہوئے اور بعض نشانوں کے پورا کرنے میں خدا نے ہمارے مخالفوں سے کام لیا ہے اور اگر اُن کو معلوم ہوتا کہ ہماری مخالفت میں بھی وہ ہماری تائید کر رہے ہیں تو شائد ویسا نہ کرتے پر وہ نہیں سمجھتے۔سوضرور تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی مخالفت ہوتی اور علمائے زمانہ کی طرف سے ہوتی تا کہ خدا کی وہ سنت جو تمام انبیاء اور نبیوں کے سردار علیہ الصلوۃ والسلام اور آنحضرت علیہ کے تمام غلاموں اور اس امت کے تمام ولیوں پر وارد