واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 1 of 142

واقعات صحیحہ — Page 1

بسم اللہ الرحمن الرحیم تمہید نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اللہ تعالیٰ جب کبھی کسی بندہ کو اپنی تو حید کے قائم کرنے کے واسطے مبعوث فرماتا ہے اور اس بندہ کو زمین کے کروڑوں انسانوں میں سے برگزیدہ کر لیتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ آسمان بھی اُس مرسل من اللہ کے حق میں گواہی دیتا ہے اور زمین بھی گواہی دیتی ہے۔یہاں تک کہ وہ لوگ جو اس کو حقیر خیال کرتے ہیں اور اسے گالیاں دیتے ہیں اور اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ بھی اپنے ان افعال اور کردار سے اس کی صداقت میں ایک گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔پر وہ اس بات کو نہیں سمجھتے۔آج سے تیرہ سو سال پہلے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح و مہدی موعود کے متعلق یہ فرمایا کہ اس کے زمانہ میں مسلمان کہلانے والے یہود سیرت ہو جائیں گے اور پہلے سے بزرگوں کے کشوف اور الہامات نے اس بات کی تصدیق کی کہ میسیج چودھویں صدی کے ابتدا میں آنے والا ہے اور تیرھویں صدی کے ملانوں کو پہلے بزرگوں نے اپنے کشف سے ایسا نا پاک اور خبیث دیکھا کہ قصہ یوسف میں اس امر سے فائدہ اٹھا کر کسی نے یہ درج کر دیا کہ یوسف کے بھائی جب بھیڑیئے کو پکڑ کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس نے آپ کے بیٹے کو کھایا ہے اور حضرت یعقوب نے اس بھیڑیئے سے پوچھا کہ اے نابکار تو نے یہ کیا کیا۔تو بھیڑیے نے سوچا کہ اب میں بغیر کسی سخت غلیظ قسم کھانے کے رہائی نہیں پاسکتا تو اُس نے یہ قسم کھائی کہ اے نبی اللہ اگر میں نے تیرے یوسف کو کھایا ہے تو خدا تعالیٰ مجھے تیرھویں صدی کے ملاں کی موت دے۔یہ قصہ بیچ ہو یا غلط ہو بہر حال اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلے سے ہی لوگوں کے خیال اس زمانہ کے علماء کی نسبت یہ تھے کہ یہ لوگ ایسے بھیڑیئے ہیں۔کہ اگر ان کو قابو ملے تو انبیاء کے کھا جانے سے بھی نہیں ٹلیں گے۔یہ متقدمین کی رائے ہے اور اس پر ہم اپنی طرف سے کچھ زیادہ نہیں کرتے۔ہاں