واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 108 of 142

واقعات صحیحہ — Page 108

نکال ڈالیگی۔میرا یگا نہ لا شریک خدا جس کی عظمت اور جبروت کا تصور ایک صادق کی پیٹھ کی ہڈیاں توڑ دیتا ہے گواہ اور آگاہ ہے کہ میں آپ کی اس محنت اور جانفشانی اور بیماریوں کی شدت کو دیکھ کر بسا اوقات جوش محبت میں سخت رنج اور دکھ سے بھر جاتا اور بار صدمہ اپنی جان میں محسوس کرتا اور میرا دل چیخ کر یہ کہتا کہ حقیقی کفارہ اور واقعی قربانی یہ ہے جو ہمارا برگزیدہ شفیع اپنے وجود سے امت محمدیہ کیلئے پیش کر رہا ہے۔ناشکر گزار قوم کیا مکافات دے رہی ہے۔اور اب بھی اس لا نظیر نشان پر کیا کیا نکتہ چینیاں نا عاقبت اندیش بد گمانوں کی طرف سے ہونگی۔مگر ایک جمیل حسین اور محسن چہرہ ہے جو اس برگزیدہ کے سامنے بیٹھا اور اپنی جان بخش تجلیات سے ساری مصیبتیں اسپر آسان کر رہا ہے۔اور اس دل افروز حسن سے ایسے عالم محویت میں یہ عاشق صادق ہے کہ غیر کی نہ تو تحسین کی پروا ہے اور نہ صیح اور تو ہین کا کچھ تنقیح خوف ہے۔میں نے بارہا دل میں ایک رنج محسوس کیا جو جبروت اور عظمت کے دباؤ سے سینہ سے سر نکالتے نکالتے رہ گیا اور کبھی جو کلیجہ منہ تک آیا تو ناز آمیز شکوہ سے اپنے رحیم کریم رب کو ہی کہہ گزرا کہ اے رحیم کریم مولیٰ تیری حکمتوں اور تقدیروں کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر کون کسی راز کو مٹھی میں لاسکتا ہے ایک طرف تو تو نے اپنے بندہ پر ایسے ذمہ داریوں کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں اور ایک جہاں کی آنکھوں کا مطمح نظر اسے بنا رکھا ہے۔اور ایک طرف یہ بیماریاں اور رنج ہیں کہ یقیناً ایک پہاڑ پر پڑیں تو اسے چور چور کر دیں۔آخر اس حقیقت کی تجلی اور انکشاف نے ڈھارس باندھی کہ یہ بھی اور یہی درحقیقت عظیم الشان معجزہ ہے۔اگر چہ کوئی خارجی آدمی بدگمانی اور تیرہ فطرتی سے یقین نہ کرے پر آستانہ قدس کا شرف ملا زمت رکھنے والے اس رنگ کو اپنے ایمانوں کے لئے نئی اور عجیب یا قوتی سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ یقین سے بھر گئے ہیں کہ یہ خدائے قدوس قادر کا ہاتھ ہے جس نے چالیس روز میں اس عظیم الشان کام کو پورا کیا ہے ورنہ مجرد اور مخذول اور مفتری بشریت کے سامنے آخری اور ابدی تباہی کا دن آچکا تھا۔ان متواتر بیماریوں اور نا قابل بیان ناتوانی اور بے کسی اور خدا تعالیٰ کی اس نصرت اور تائید نے اور بھی زیادہ حضرت موعود کے صدق اور حقیت پر مہر کر دی۔کل جمعہ کے دن ۲۲۔فروری کو یہاں قابل دید نظارہ تھا جبکہ قدس کے میدانوں میں جولان کرنے والا اشہب قلم آپ کا منزل مقصود پر عافیت و خیریت سے پہنچ کر آرام سے