واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 99 of 142

واقعات صحیحہ — Page 99

۹۹ قولۂ۔ان ہی ایام میں چند اک پر دار مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں بھی ان کے دام کے بس میں آچکی تھیں۔اقول۔یہ وہی مچھلیاں اور سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہیں جو ایک زمانہ میں حضرت خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شکل میں پہلے داعی صلی اللہ علیہ وسلم کے دام میں آئی تھیں۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جابجا اعتراف کہ حضرت خدیجہ کے مال نے انہیں مدد دی۔اور جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مکہ معظمہ میں چالیس ہزار روپیہ آپ پر خرچ کیا اور یوں اس مرد اور عورت نے آپ کے کارخانہ کو رونق دی۔کیا ضروری نہ تھا کہ اُن ناعاقبت اندیش مخالفوں کے نمونے تمہاری شکل میں ہوتے جنہوں نے کہا تھا لَشَى يُرَادُ اور اِنَّ هَذَا الاِ خُتِلاق۔اے ناعاقبت اندیش جلد باز و تمہیں اتنی مدت کے بعد کس نے یاد دلایا کہ تم اُن ہی گزرے ہوئے راستی کے دشمنوں کے جائز فرزند ہو اور یہ کہ تمہاری رگوں میں وہی خون حمیت جوش زن ہے کہ تم اندیشیدہ اور نا اندیشیدہ وہی باتیں زبان پر لاتے ہو جو انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کہی تھیں۔تمہیں کس چیز نے یقین دلایا کہ آنے والے غضب سے ان باتوں کے ساتھ بچ جاؤ گے جبکہ تمہاری آنکھیں دیکھ چکی ہیں کہ تمہارے باپ دادے ان باتوں کے ساتھ خدا کے قہر کی بجلی سے بھسم کئے گئے۔اور مغضوب مسیھم کہلائے۔غضب کی راہ کو چھوڑو اور مُنْعَمُ عَلَيْهِمُ کی راہ اختیار کرو کہ تمہارا بھلا ہو۔کیا خدا تعالیٰ کے ماموروں کے ساتھ معاونوں اور مخلصوں کا ہونا ضروری نہیں۔کیا اس عالم اسباب میں آسمانی امدادیں اور تائیدیں ان ہی متعارف اور معہود راہوں سے نہیں آیا کرتیں۔کیا کوئی تمہاری بولی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیش العسرت میں وہ قابل قدر مدد نہ کرتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کارخانہ سخت صدمہ اٹھاتا۔نا دانو خدا تعالیٰ کے منصور اور اس کے مخذول و مطرود میں یہی تو فرق ہے کہ آخر معہود اسباب میں ہو کر نصرت الہی اُس کی دستگیری کرتی ہے۔اور مخذول کے سارے اسباب جل جاتے ہیں۔اگر چہ منصور کی پہلی حالت کیسی ہی ضعیف اور کس مپرس ہو اور مخذول کی ابتدا کیسی ہی پر شوکت ہو۔رسول خدا صلے اللہ علیہ وسلم کو خدام و انصار سے جو مدد اور تائید ملی وہ اُسی وعدہ کا