شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 62
حضرت نبی کریم کی مہر نبوت قیامت تک جاری رہیگی اور قرآن شریف میں آیا ہے وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُو قِنُونَ۔یعنی متقی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو تجھ پر اتارا گیا ہے اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا اور اس پر یقین رکھتے ہیں جو تیرے بعد نازل کیا جائیگا خدا تعالیٰ نے تین زمانوں کا ذکر کیا ہے ایک وہ زمانہ جو رسول کریم کا اور ایک آپ سے پہلے ایک آپ کے بعد کا زمانہ ہے جو مسیح موعود کا زمانہ ہے اور ایک جگہ واخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم فرمایا سو وہ لوگ جو سیح موعود کی رسالت کا انکار کریں وہ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ میں داخل نہیں۔سواے لوگو مسیح موعود علیہ السلام نے دعوائے نبوت کیا ہے کہ میں نبی ہوں اور خدا تعالیٰ نے بھی اس آیت سے آپ کی نبوت ثابت کی ہے جو لوگ آپ کو صرف محمدد اور محدث مانتے ہیں اور رسول نہیں مانتے جیسے لاہوری فرقہ جو اپنے آپ کو احمدی بھی کہتے ہیں انکو سیح موعود سے انکار ہے۔الغرض اس نبوت کو جو قرآن شریف نے جائز رکھی ہے جس کا آپ اقرار کرتے ہیں۔نبوت ظلی۔بروزی عکسی اور رنگ کہتے ہیں قرآن شریف میں صبغہ یعنی رنگ کا ذکر آیا ہے لیکن تمام کا ایک ہی مطلب ہے۔جہاں مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ میں رسول کریم ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کا بروز ہوں۔اس کا یہ مطلب ہے کہ میرا وجود حضرت محمد رسول اللہ کا وجود ہے۔میرے حرکات و سکنات رسول کریم کے حرکات و سکنات ہیں میرا دین کی خدمت کرنا آپ ہی کا دین کی خدمت کرتا ہے میرا دعوئی آپ ہی کا دعوی ہے۔مجھے قبول ہے۔کرنا رسول کریم کو قبول کرتا ہے۔میری عزت کرنا رسول کریم کی عزت کرنا ہے۔میری بے عزتی رسول کریم " کی بے عزتی ہے۔میرا نہ ماننا رسول کریم ﷺ کا نہ مانتا ہے۔مجھے سے قطع تعلق کرنا رسول کریم سے قطع تعلق کرنا ہے اور مجھ سے ٹھٹھا کرنا رسول کریم پر ٹھٹھا th