شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 61
نے فرمایا ہے من نیستم رسول دنیا اور دہ ام کتاب۔یعنی میں ایسا رسول نہیں ہوں کہ میں قرآن کریم چھوڑ کر نئی کتاب لایا ہوں بلکہ اس قرآن اور اس رسول کریم کے دین کو واپس لایا ہوں جس کی طرف حدیث میں اشارہ ہے کہ مسیح موعود ثریا سے رسول کریم کا دین واپس لائے گا۔سو ایک رسالت تو نبیوں کی اصطلاح میں ہوئی کہ نئی کتاب و شریعت لا دے اس سے آپ نے انکار کیا ہے اور ایک رسالت خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں ہے جو کہ رسول وہ ہوتا ہے کہ خدا اسے رسول کہتا ہے اور امور غیبیہ کی خبر دیتا ہے اور کثرت سے مکالمہ مخاطبہ اس کے ساتھ کرتا ہے۔اور اصلاح خلق کے لئے اسے مقرر و مامور کرتا ہے چاہے نئی کتاب لایا ہو چاہے نہ لایا ہو۔جس طرح حضرت الحق علیہ السلام - یعقوب علیہ السلام - یوسف علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون علیہ السلام اور جیسے مسیح علیہ السلام اسی طرح اور ہزار ہانی جو نئی شریعت نہیں لائے ایسی رسالت کا مسیح موعود علیہ السلام نے بھی دعوی کیا ہے جو حدیث میں بھی آیا ہے ابن مریم " تم میں آئیگا اس رسالت کا رسول کریم نے وعدہ دیا ہے اور ایسا ہی مسیح موعود نے فرمایا ہے: زمان منم محمد که کہ تعظیمی جو خطبہ الہامیہ میں لکھا ہے کہ میرے اور رسول کریم میں جس نے فرق کیا اس نے نہ تو مجھے دیکھا ہے اور نہ پہنچانا اور میرا انکار خدا کا اور قرآن کا اور تمام (انبیاء) کا انکار ہے۔اور میری آمد تمام انبیاء کی آمد ہے خدا نے اپنے نشان دئے ہیں کہ رسول کریم اللہ کے سوا اور کسی نبی میں نہیں پائے جاتے اور فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یا نبی الله ما أعرفك سوایسے نبی ہمیشہ قیامت تک ہوتے رہیں گے مگر اسے مان کر نہ علیحدہ تا کہ