شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 53
۵۳ تھا۔اب موقعہ آیا ہے کہ اس نے لے لیا اور تم دیکھ لو گے کہ میرا مال اور میر اہل وعیال اور میرا نفس کس طرح خدا کی راہ میں خدا ہوتا ہے۔اور تم دیکھ لو گے کہ میں اپنی دولت اور عزت اور عیال کس طرح ایک چٹکی میں پھینکتا ہوں۔آپ نے سید گاہ میں پندرہ ہیں روز گزارے ہوں گے بڑے بڑے عمائکہ آپ کے پاس آتے اور کہتے کہ اگر یہ باتیں آپ چھوڑ دیں تو بہت اچھا ہے۔مگر آپ نے کوئی پروا نہیں کی۔اور امیر کو خبر پہنچنے پر آپ کو کچھ سواروں کے ساتھ کا ہل ہلایا۔اور آپ ارگ کے قید خانہ میں نظر بند کیئے گئے۔آپ کی چار بیویاں اور اٹھارہ لڑکے لڑکیاں تھے۔آپ کی موجودگی میں تین بیویاں اور چھ لڑکے لڑکیاں رہ گئے اور باقی گذر گئے۔آپ کی شہادت کے بعد آپ کے اہل و عیال کو جلا وطن کر کے بلخ پہنچایا گیا اور تمام ملک ضبط کی گئی۔چند سال کے بعد ان نظر بند قیدیوں نے امیر سے کہا کہ ہم کس قصور میں قید کئے گئے براہ مہربانی ہمیں ہمارے ملک میں واپس بھیجا جاوے پس وہ رہا کئے گئے اور وطن میں بھیجا گیا اور ضبط شدہ ملک بھی واپس دیدی گئی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد نظر بند کئے گئے اور جائداد ضبط ہوگئی۔جب میر احمد گرفتار ہوا اور تشہیر اور سخت ذلت اٹھانے کے بعد رہا ہوا تو اُسنے بیان کیا کہ ایک شخص پر جن کا سایہ تھا مجھے یقین نہ آیا وہ کہا کرتا تھا کہ میں احمدی ہوں پھر بھی مجھے یقین نہ آیا مگر جب مجھے ایسے ایسے نشان بتائے جو مجھ پر گرفتاری کی حالت میں گزرے تھے تب مجھے یقین کرنا پڑا۔اور اُسنے کہا کہ ہم بہت سے جن تمہاری گرفتاری کی حالت میں تمہارے ساتھ مقرر تھے ساتھ ساتھ رہتے تھے شہید مرحوم کے تمام حالات اور تمہارے بھی قلم بند کئے گئے ہیں اور ہم شہید مرحوم کے ساتھ رہتے تھے جب شہید مرحوم قید کئے گئے تو ہم انکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر جناب حکم دیں تو اس شہر کابل کو فنا و تباہ کردیں۔صاحبزادہ صاحب یہ سنکر غصہ میں آئے اور فرمایا کہ تم کون ہوشیاطین ہو یا کیا