شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 52
۵۲ مجھے یہ الہام ہوا فی مقعد صدق عند مليك مقتدر ایک دفعہ ہم گھر جارہے تھے کہ صاحبزادہ صاحب شہید مرحوم سے کوہاٹ میں ایک آدمی کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں گفتگو ہوئی اس نے انکار کیا آپ نے فرمایا تم اپنے شہر کا حال دریافت کرو کہ کیا حال ہوا ہے۔ہمیں آپ سے دریافت کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔جہاں رات ہوتی قیام کرتے لوگ ملاقات کیلئے آتے تو آپ مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ضرور کرتے۔جب اپنے ملک اور اپنے گاؤں سید گاہ کے قریب پہنچے تو تمام عزیز و اقارب اور شاگرد وغیرہ آپ کی ملاقات کے لئے گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے اور بڑی خوشی منائی کہ صاحبزادہ صاحب حج سے واپس آگئے۔آپ نے فرمایا میں حج سے نہیں آیا بلکہ قادیان سے آیا ہوں جہاں ایک مقبول الہی مستجاب الدعوات اور مسیح موعود ہونے کا دھوئی رکھتا ہے آپ صاحبوں کو یہ خبر دینے آیا ہوں وہ سچا ہے صادق ہے تا کہ تم اس کا انکار نہ کر کے اقرار کر لو اور خدا کے عذاب اور قہر سے بچ جاؤ اور اسکی رحمتوں کے وارث و مورد بن جاؤ۔اور بہت سی باتیں نصیحت کے طور پر فرما ئیں۔آپ کے رشتہ دار بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ ان کی بابت ہم کو یہ خبر ملی ہے کہ قادیانی نصف قرآن مانتا ہے۔اور نصف کا انکار کرتا ہے۔اور کافر ہے اس کا پیرو بھی کافر ہے اور قادیان جانا بھی کفر ہے۔اگر یہ باتیں آپ کی امیر کے پاس پہنچیں گی اور وہ سنے گا تو ہم تمام قتل کئے جائیں گے اور تباہ کر دئے جائینگے آپ نے فرمایا کہ تم اس ملک کو چھوڑ کر بنوں چلے جاؤ وہاں بھی زمین ہے یہ تمہارے لئے بہتر ہو گا اس سے کہ تم خدا کے مامور کا انکار کرو۔ورنہ میں ایک ایسی بلا تمھارے پیچھے لایا ہوں کہ کبھی بھی تم بیچ نہیں سکو گے۔اور میں تو اس بات سے ہرگز نہیں ملوں گا۔یہ خدا کا فرمان ہے مجھے اس کا پہنچانا بہت ضرور ہے اور میں نے اپنا مال اور اپنی اولاد اور اپنا نفس خدا کی راہ میں دے دیا ہے۔خدا نے نہیں لیا