شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 35 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 35

۳۵ طریق پر ہے۔تب مجھے معلوم ہوا کہ اگر سچا آدمی ہے تو یہی ہے۔آخر جب شر ندل خان جو کہ امیر عبدالرحمن صاحب کا چچا زاد بھائی تھا گورنر خوست مقرر ہوا۔اس نے جب صاحب زادہ عبد اللطیف صاحب کا پُر اثر کلام سنا اور علم اور عمدہ بیان اور مہمان نوازی کی شان و شوکت دیکھی اور ان کے مریدوں کی کثرت اور تقویٰ نے ان کے دل پر اثر کیا تو یہ دل میں شوق پیدا ہوا کہ صاحبزادہ صاحب کو میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور جہاں میں جاؤں یہ میرے ساتھ ہوں ان امیدوں کو لئے ہوئے صاحبزادہ صاحب سے ذکر کر کے اپنے پاس رکھا۔جہاں گورنر جایا کرتا آپ کو بھی گھر سے بلا کر لے جا یا کرتا۔گورنر کو آپ کی ایسی محبت ہوگئی کہ اُس کو آپکے بغیر چین نہ آتا اور بہت سے انعام واکرام سے سلوک کرتا۔جب امیر عبدالرحمن خان کو خبر ملی تو اُس نے بھی انعاما آپ کے لئے گیارہ سو روپیہ مقرر کر دیا۔صاحبزادہ صاحب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بڑے بڑے حاکموں اور گورنروں سے بہت نفرت ہے کہ یہ لوگ ظلمت میں رہتے ہیں اور لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔میں اگر شر ندن خاں گورنر کے ساتھ رہتا ہوں تو محض اس لئے کہ یہ غریب لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔میں ان غریبوں کو اس کے ظلم و ستم سے بچاتا ہوں تا کہ یہ لوگ اسکے پنے علم کے نیچے نہ آجا دیں۔صاحبزدہ صاحب ایک ایسے پر حکمت انسان تھے کہ گورنر کو آپ سے یہ بہت بڑا فائدہ پہنچا کہ منگل - جدران - تی۔یہ تین قومیں ایسی زبر دست تو میں تھیں کہ کبھی رعایا بن کر نہیں رہتی تھیں۔لیکن آپنے ایسی حکمت سے کام لیا کہ بلا چون و چرایہ تمام قو میں رعایا بنا کر گورنر کے حوالہ کردیں۔بعض وقت ایسا ہوتا تھا کہ کہیں لڑائی میں کسی قسم کا حکم فوج کو دینا منظور ہوتا تو گورنر حیران ہو جاتا کہ اس موقعہ پر کیا حکم ہو۔اس وقت صاحب زادہ صاحب فوج کو فوراً موقع کے مطابق حکم دیتے کہ گورنر کی عقل حیران رہ جاتی۔