شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 34 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 34

۳۴ اپنے اُستاد کے ساتھ ایک دو جمعہ صاحبزادہ صاحب کے پاس درس سننے کیلئے جاتا رہا۔ان کے وعظ اور کلام نے میرے دل میں ایسا اثر پیدا کیا کہ میں اُستاد کی اجازت کے بغیر ان کے پاس رہنے لگا۔کچھ دنوں کے بعد میرے اُستاد کا مجھے حکم آیا کہ تم میرے پاس سے بغیر اجازت گئے ہو میں تم سے بہت ناراض ہوں۔ہر گز نہیں بخشوں گا۔اسوقت میرے دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ میرا اُستاد ہے کہیں بددعا نہ دے۔ایک طرف تو صاحب زادہ صاحب سے الگ ہونے کو دل نہیں چاہتا تھا دوسری طرف اُستاد کا خوف رہتا تھا۔آخر میں نے صاحبزادہ صاحب سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایک مولوی کی اگر کوئی شاگردی اختیار کرلے تو اس سے یہ مطلب تو نہیں کہ بس غلام ہی ہو گیا ہے۔جہاں آپ کا دل چاہتا ہے تعلیم پائیں۔اگر آپ یہاں رہنا چاہتے ہیں بیشک آپ یہاں ٹھہریں اور دینی تعلیم پائیں۔پس میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں رہ کر بہت سے حقائق اور معارف سنتا رہا۔اور میرے دل میں بہت اثر ہوا۔اس ملک خوست میں شیخان قوم کے لوگ بہت ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے پیر کو آسمان کی مخلوق اور دریاؤں کا علم ہے اور جو زمین کے نیچے ہے ان کا بھی علم ہے بلکہ یہاں تک کہ جو آسمان پر دریا اور ان میں کنکر پتھر وغیرہ ہیں سب کا علم ہے۔چونکہ میں بھی اس عقیدہ پر تھا میں نے اس کے ہار میں صاحبزادہ صاحب سے ذکر کیا انہوں نے فرمایا کہ یہ بالکل غلط ہے۔پیر ومرشد جو ہوتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے بندے اور اس کے حکم کے پابند اور اس کے رسولوں کے قدم بقدم چلتے ہیں بزرگی یا دلایت قطبیت و خوشیت یہی ہے۔دوسرے مولویوں اور صاحبزادہ صاحب کے کلام میں بہت فرق تھا۔جب ان سے کسی حکم یا مسئلہ کی بابت پوچھو تو جواب ملتا تھا کہ میرے خیال میں تو یہ اس طرح سے ہوگا لیکن اگر صاحبزادہ صاحب سے پوچھا جاتا تو فرماتے کہ یہ حکم اس طرح پر ہے۔یعنی اور لوگ گمان سے کہتے تھے لیکن صاحبزادہ صاحب یقین سے جواب دیا کرتے تھے کہ یہ حکم اس