شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 14
۱۴ پانچ خط بادشاہ کے درباریوں کو لکھے۔ایک ان میں سے گورنر مرزا محمد حسین خان کو لکھا۔ایک مرزا عبدالرحیم خان دفتری کو لکھا ایک شاہ ناشی عبد القدوس خان کو اور ایک حاجی باشی کو جو بھی امیر کے ملک سے حاجی آتے ہیں اس کی اجازت سے آتے ہیں۔ایک اور بڑا آدمی تھا نا لیا قاضی القضاۃ تھا۔ان خطوں میں یہ مضمون تھا کہ میں حج کی خاطر روانہ ہوا تھا لیکن ہندوستان جا کر قادیان ایک جگہ ہے وہاں گیا۔قادیان میں ایک آدمی نے جس کا نام مرزا غلام احمد ہے۔یہ دعوی کیا ہے کہ میں خدا کی طرف سے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں۔اور میں خدا کے کلام قرآن شریف اور احادیث کے مقرر کردہ وقت پر آیا ہوں۔اور میرا دعوئی خدا اور رسول کے قول کے مطابق ہے۔مجھے خدا اور رسول نے خود مقرر کر کے بھیجا ہے میں محمد اللہ کے دین کی خدمت کیلئے آیا ہوں تا کہ میں اپنے آقا کے دین کی اس مصیبت کے وقت میں خدمت کروں۔تب میں نے قادیان میں چند مہینے گزارنے۔اس کے تمام چال و چلن کو دیکھا۔دعوے کو بنا اور اور اقوال و افعال غور ہے دیکھے تو میں نے اُس کو اور اس کے تمام حالات کو قرآن وحدیث کے مطابق پایا۔اور اُس کے ملنے سے نہیں خدا اور سول کا قرب حاصل ہوا۔سو میں آپ لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ وہ خدا تعالی کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اور یہ وہی شخص ہے جس کی حضرت محمد مصطفیٰ ے نے آئندہ زمانہ کے لئے پیش گوئی کی تھی۔اور یہ وہی شخص ہے جس کا انتظار ہم لوگ کرتے تھے۔میں نے اسے مان لیا ہے۔تمہیں چاہیے کہ اسے مان لو تا کہ خد کے عذاب سے بچ جاؤ اور تمہاری بہتری ہو۔آگے اب آپ لوگوں کو اختیار ہے۔مجھ پر تو صرف پیغام پہنچانا فرض تھا اور میں پیغام پہنچا کر سکدوش ہوتا ہوں۔جب یہ خطوط لکھے گئے تو آپ نے اپنے ایک آدمی کو فرمایا کہ یہ خطوط کامل لے جاؤ اور ان لوگوں کو دے دو جنکے نام یہ خط ہیں تب اس آدمی نے عرض کی کہ کپڑے وغیرہ لے لوں کہ سردی کا موسم ہے۔آپ بہت ناراض ہوئے اور کاغذ واپس لے لیئے اور فرمایا کہ تم اس