شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 13
۱۳ کر ہم سب نے کھانا کھایا اور ان لوگوں کو بھی کھلایا۔آخر ہم بتوں پہنچے وہاں ایک دو روز کے قیام کے بعد خوست کو چل پڑے راستہ میں دوڑ ایک جگہ ہے وہاں تک ٹمٹم میں گئے۔یہاں کے نمبر دار نے ہماری آمد کی بہت خوشی ظاہر کی اور ایک بکری ذبح کی اور کھانا کھلایا۔شہید مرحوم نے کچھ وعظ بھی اسے کیا۔صبح ہوتے ہوئے سید گاہ سے آدمی گھوڑوں پر استقبال کیلئے آئے وہاں سے آپ گھوڑے پر سوار ہوئے اور ہم سب پیدل تھے گھر تک پہنچ گئے۔راستہ میں آپ سنایا کرتے تھے کہ ہمیں یہ الہام ہوتا ہے۔کہ اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ۔اس وقت کابل کا امیر حبیب اللہ خان تھا۔جب اپنی جگہ پر پہنچے ادھر ادھر سے رؤساء خوشی خوشی ملنے کے لئے آئے کہ صاحبزادہ صاحب حج سے واپس آگئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں حج تک نہیں پہنچا بلکہ ہندوستان میں قادیان ایک جگہ ہے۔وہاں ایک آدمی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ اس کا فرمان ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور اس نے مجھے اس زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے۔میرا آنا خدا اور سول کے فرمان کے مطابق ہے۔میں مقررہ وقت پر بھیجا گیا ہوں۔میں نے اسے دیکھا ہے اور حالات بھی معلوم کئے ہیں اس کے اقوال اور افعال اور دعویٰ قرآن اور حدیث کے مطابق ہے۔تمہیں چاہئے کہ تم اس کو مانو تمہیں فائدہ ہوگا اگر نہ مانو تمہارا اختیار ہے۔میں نے تو مان لیا ہے۔لوگوں نے عرض کیا کہ یہ باتیں نہ کرو ان ہی باتوں سے تو امیر کابل نے برا منایا تھا۔اور عبد الرحمن کو شہید کر دیا تھا۔شہید مرحوم نے فرمایا کہ تمہارے دو خدا ہیں جتنا خدا سے خوف ہونا چاہیے اتنا تم امیر سے کرتے ہو۔کیا میں خدا کی بات اور حکم کو امیر کی خاطر نہ مانوں۔کیا قرآن سے تو بہ کروں یا حدیث سے دست بردار ہو جاؤں۔اگر میرے سامنے دوزخ بھی آجائے تب بھی میں تو اس بات سے نہیں ملوں گا۔چنانچہ خوست کے گورنر نے حاضر ہو کر بہت عرض کیا کہ یہ باتیں نہ کرو۔تمام عزیز واقارب نے بیزاری کے خطوط لکھے لیکن آپ نہ ٹلے۔اور ان باتوں سے بالکل پیچھے نہ ہٹے۔باوجود ایسے وقت نازک ہونے کے آپ نے