واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 22

واقعات شیریں — Page 5

نیکی کا اجر ضائع نہیں ہوتا " مجھے یاد آیا متذکرۃ الاولیاء میں میں نے پڑھا تھا۔کہ ایک آتش پرست بڑھا تو سے برس کی عمر کا تھا۔اتفاقاً بارش کی جھڑی جو لگ گئی تو وہ اس جھڑی میں کو تھے پر چڑیوں کیلئے دانے ڈال رہا تھا۔کسی بزرگ نے پاس سے کہا کہ ارے بڑھے تو کیا کرتا ہے۔اس نے جواب دیا کہ بھائی چھ سات روز متواتر بارش ہوتی رہی چڑیوں کو دانہ ڈالتا ہوں۔اس نے کہا کہ تو عبت حرکت کرتا ہے تو کا فر ہے تجھے اجر کہاں۔بوڑھے نے جواب دیا مجھے اس کا اجر ضرور ملے گا۔بزرگ صاف فرماتے ہیں کہ میں حج کو گیا تو دور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بڑھا طوات کر رہا ہے۔اس کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور جب میں آگے بڑھا تو پہلے وہی بولا کہ میرا دانے ڈالنا ضائع کیا یا ان کا عوض ملا ؟ اب خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کافر کی نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں کیا تو کیا مسلمان کی نیکی کا اجر ضائع کردیگا " ( ملفوظات جلد اوّل صدا ) ایک بزرگ کی دعوت متقی ترک شہر کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے اور محسن افاضہ خیر کو چاہتا ہے میں نے اس کے متعلق ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک بزرگ نے کسی کی دعوت کی اور اپنی طرف سے مہمان نوازی کا پورا اہتمام کیا اور حق ادا کیا۔جب وہ کھانا کھا چکے تو بزرگ نے کہا کہ میں آپ کے لائق خدمت نہیں کر سکا۔مہمان نے کہا آپ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ میں نے احسان کیا ہے کیونکہ جس وقت تم مصروف تھے میں تمہاری املاک کو آگ لگا دیتا تو کیا ہوتا " ( ملفوظات جلد اوّل ص۱۷) تین حج " مجھے۔۔۔۔۔ایک نقل یاد آئی ہے کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لیے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیا دار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تقال لانا جو ہم پہلے حج میں لائے تھے اور پھر کہا دوسرا تھال بھی لانا جو ہم دوسرے حج میں لائے تھے۔اور پھر کہا کہ تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔اس بزرگ نے فرمایا کہ تو تو بہت ہی قابلِ رحم ہے ان تینوں فقروں میں تو نے اپنے تین ہی حجموں کا ستیا ناس کر دیا۔تیرا مطلب اس سے صرف یہ تھا کہ تو اس امر کا اظہار کرے کہ تو نے تین حج کیسے ہیں اس لیے خدا نے تعلیم دی ہے کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے اور نئے منی