واقعات شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 22

واقعات شیریں — Page 4

یہ پاک تبدیلی اس میں بھر گئی۔نہ صرف زبان تک ہی محدود رہی۔اس کے بعد لکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بظاہر ایسا بنا لیا۔کہ تارک صوم و صلواۃ ہے اور گندہ اور خراب آدمی ہے مگر اندرونی طور پر پوشیدہ اور نیک اعمال بجا لاتا تھا۔پھر وہ جدھر جاتا اور جد حصر اسکا گزر ہوتا تھا لوگ اور لڑکے اسے کہتے تھے کہ دیکھو یہ شخص بڑا نیک اور پار سا ہے یہ خدا کا پیارا اور اس کا برگزیدہ ہے۔عرض اس سے یہ ہے کہ قبولیت اصل میں آسمان سے نازل ہوتی ہے اولیاء اور نیک لوگوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کو پوشیدہ رکھا کرتے ہیں وہ اپنے صدق وصفا کو دوسروں پر ظاہر کرنا عیب جانتے ہیں۔ہاں بعض ضروری امور کو جن کی اجازت شریعت نے دی ہے یا دوسروں کو تعلیم کے لیے اظہار بھی کیا کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص ۲۴ - ۲۵۰ ) مصائب و شدائد ایک مجلس میں با یزید” وعظ فرمارہے تھے۔وہاں ایک مشائخ زادہ بھی تھا جو ایک لمبا سلسلہ رکھتا تھا اس کو آپ سے اندرونی بغض تھا۔اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے۔جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسمعیل کو لے لیا کیونکہ وہ لوگ عیش وعشرت میں پڑ کر خدا کو بھول گئے ہوتے ہیں وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (سورة آل عمان : (۱۲) اور باوجود اور یہ دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان نوبت یہ نوبت پھراتے رہتے ہیں۔سواس شیخ زادے کو خیال آیا کہ یہ ایک معمولی خاندان کا آدمی ہے۔کہاں سے ایسا صاحب خوارق آگیا کہ لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں اور ہماری طرف نہیں آتے۔یہ باتیں خدا تعالیٰ نے حضرت بایزید پر ظاہر کیں تو انہوں نے ایک قصہ کے رنگ میں یہ بیان شروع کیا کہ ایک جگہ مجلس میں رات کے وقت ایک لیمپ میں پانی سے ملا ہوا تیل جل رہا تھا تیل اور پانی میں بحث ہوئی۔پانی نے تیل کو کہا کہ تو کثیف اور گندہ ہے و کثافت کے میرے اوپر آتا ہے میں ایک مصفا چیز ہوں اور طہارت کیلئے استعمال کیا جاتا ہوں۔لیکن نیچے ہوں۔اس کا باعث کیا ہے ؟ تیل نے کہا کہ جس قدر صعوبتیں میں نے کھینچی ہیں۔تو نے وہ کہاں جھیلی ہیں۔جس کے باعث یہ بلندی مجھے نصیب ہوئی۔ایک زمانہ تھا۔جب میں بویا گیا زمین میں مخفی رہا۔خاکسار ہوا پھر خدا کے ارادہ سے بڑھا بڑھنے نہ پایا کہ کاٹا گیا۔پھر طرح طرح کی مشقتوں کے بعد صاف کیا گیا کو لہو میں پیسا گیا۔پھر تیل بنا اور آگ لگائی گئی کیا ان مصائب کے بعد بھی میں بلندی حاصل نہ کرتا ہے یہ ایک مثال ہے کہ اہل اللہ مصائب کے بعد درجات پاتے ہیں “ ( ملفوظات جلد اول در ۲۶۰۲۵)