واقعات شیریں — Page 13
۲۲ مجھ پر غضب نہیں آتا کیا یہ تیرے لیے کرامت نہیں ہے “ ( ملفوظات جلد ہشتم ۳۹۵) اللہ کی قدرت نمائی کا نمونہ۔۔۔۔۔۔" " اللہ تعالیٰ اپنی قدرت نمائی کا ایک نمونہ دکھانا چاہتا ہے۔۔۔لوگوں کا خیال کسی اور طرف ہوتا ہے اور خدا تعالٰی کوئی اور بات کر دکھلاتا ہے جس سے بہتوں کے واسطے صورت ابتلا پیدا ہو جاتی لکھا ہے کہ ایک بزرگ جب فوت ہوئے تو انہوں نے کہا کہ جب تم مجھے دفن کر چکو تو وہاں ایک سبز چڑیا آئیگی جس کے سر پر وہ پچڑیا بیٹھے وہی میرا خلیفہ ہوگا۔جب وہ اس کو دفن کر چکے تو اس انتظار میں بیٹھے کہ وہ چڑیا کب آتی ہے اور کسی کے سر پر بیٹھتی ہے۔بڑے بڑے پرانے مرید جو تھے ان کے دل میں خیال گزرا کہ چڑیا ہمارے ہی سر پر بیٹھے گی۔تھوڑی ہی دیر میں ایک چڑیا ظاہر ہوئی اور وہ ایک بقال کے سر پر آ بیٹی جو اتفاق سے شریک جنازہ ہو گیا تھا۔تب وہ سب حیران ہوئے لیکن اپنے مرشد کے قول کے مطابق اس کو لے گئے اور اس کو اپنے پیر کا خلیفہ بنایا ( ملفوظات جلد هشتم ص۴ - باپ کی نیکی کی برکت میرا تو اعتقاد ہے کہ اگر ایک آدمی با خدا اور سچا متقی ہو تو اسکی سات پشت تک بھی خدا رحمت اور برکت کا ہاتھ رکھتا اور ان کی خود حفاظت فرماتا ہے۔ایک دفعہ حضرت موسیٰ وعظ فرما رہے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ سے کوئی اور بھی علم میں زیادہ ہے تو انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ کو یہ بات ان کی پسند نہ آئی ریعنی یوں کہتے کہ خدا کے بندے بہت سے ہیں جو ایک سے ایک علم میں زیادہ ہیں اور حکم ہوا کہ تم فلاں طرف پہلے جاؤ جہاں تمہاری مچھلی زندہ ہو جاوے گی وہاں تم کو ایک علم والا شخص ملے گا۔پس جب وہ ادھر گئے تو ایک جگہ مچھلی بھول گئے۔جب دوبارہ تلاش کرنے آئے تو معلوم ہوا مچھلی وہاں نہیں ہے۔وہاں ٹھہر گئے تو ایک ہمارے بندہ سے ملاقات ہوئی۔اس کو موسیٰ نے کہا کہ کیا مجھے اجازت ہے کہ آپ کیسا تھ رہ کر علم اور معرفت سیکھوں۔اس بزرگ نے کہا کہ اجازت دیتا ہوں مگر آپ بد گمانی سے بچ نہیں سکیں گے۔کیونکہ جس بات کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی اور سمجھ نہیں دی جاتی تو اس پر صبر کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ جب دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک موقعہ پر بے حمل کام کرتا ہے تو اکثر بدظنی ہو جاتی ہے۔پس موسی نے کہا میں کوئی بدھتی نہیں کروں