حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 68
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 68 خود نوشت حالات زندگی دانے ہیں۔پست قد کی آنکھیں خونخوار ہیں۔یہ شیطان سیرت سادھو زنان خانہ میں داخل ہو گئے۔جس سے شور برپا ہوا۔میں نے آواز بلند کی اور وہ دونوں جلدی سے باہر نکل آئے۔پست قد نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کرنا چاہا مگر دوسرے نے اشارہ کیا کہ یہ موقعہ خطا جائے گا اور وہ دونوں سیڑھیوں سے اتر کر واپس چلے گئے۔یہ ایک لمبا خواب ہے جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔میں نے دار مسیح کے میدان کے اردگرد تار یک وادی میں بندر ہو اور کچھ وغیرہ کو تے پھاندتے اور اودھم مچاتے بھی دیکھے۔یہ خواب بھی سچا ہوا جب کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ نے مجھے بطور ناظر امور عامہ و خارجہ متعین فرمایا اور ۱۹۳۷ء سے ۱۹۴۷ء تک دس سال فتنہ پردازوں کا کامیابی کے ساتھ مجھے مقابلہ کرنے کا موقع ملا یہاں تک کہ آخر بوقت تقسیم ملک میں سکھوں کی یلغار وغیرہ کے تعلق میں خدمت کرتا ہوا بھارت کے ہاتھوں قید ہوا۔فالحمد لله علی ذالک یہ عرصہ خدمت نظارت امور عامه و خارجہ دس سال تک ممتد تھا۔اسی طرح مشیت الہی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ) کے ارادے اور راہنمائی میں عملاً جلوہ گر ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی استجابت دعا کے نمونے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے استجابت دعا کا ایک واقعہ بیان کر کے اس داستان کو ختم کرتا ہوں۔حضرت والد صاحب (ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب) کی یہ عادت تھی کہ ہر تین سال کے بعد تین ماہ کی رخصت لیکر مع اہل بیت استفادہ روحانی کی غرض سے قادیان تشریف لاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو اپنے ہاں ٹھیراتے اور اس طرح ہمیں بھی دارا مسیح میں قیام کرنے کا موقع ملتا رہتا۔گرمی کا موسم تھا، غالبا جون کا مہینہ۔میرے دل میں یہ بڑی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تنہا ہوں تو میں آپ کو پنکھا کروں۔ایک دن میری بڑی ہمشیرہ صاحبہ مرحومہ نے جن کا نام زیب النساء (اللہ آپ سے