حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 67
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 67 خود نوشت حالات زندگی اصلاحات نافذ ہیں۔بکروال وغیرہ قبائل نے جولٹیرے مشہور ہیں میرا ہر جگہ خوشی سے استقبال کیا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کو دعائیں دیں کہ ان کے ٹیکس کم ہوئے۔ریچھوں کی غار میں اس سفر کے اثناء میں بعض وقت مجھے ریچھوں کی غاروں میں رات گذار نا پڑی۔ریچھ موسم گرما میں برفانی چوٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور غار میں خالی ہوتی ہیں۔موسم کی خرابی اور بارش کی وجہ سے ہمیں مجبور ا ر استے میں انہی غاروں میں سے ایک غار میں رات ٹھہر نا پڑا۔غرض کشمیر کی مہم ایک عظیم الشان تاریخی مہم ہے جو آپ کی قیادت میں اسیروں کی رہائی کیلئے سر ہوئی۔گو جماعت کو ایک لمبا عرصہ تک برٹش انڈین حکومت کی مخالفت مول لینی پڑی اور اس مخالفت میں احرار خاص طور پر انگریزوں کا آلہ کار بنے لیکن مشیت الہی حضرت خلیفہ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) کے ساتھ تھی اور اسی مخالفت کا سد باب کرنے کیلئے مجھے بحیثیت ناظر امور عامه و ناظر امور خارجہ خدمت ادا کرنا پڑی۔وہ بھی درحقیقت مشیت الہی ہی کا ایک انعکاس تھا جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( نور اللہ مرقدہ) کے قلب صافی پر ہوا۔ہر موقعہ پر الہی راہنمائی مجھے اس کا تجربہ و مشاہدہ نہ ایک بار بلکہ ہر بار ہوا میں کسی مہم کیلئے نامزد کیا گیا ہوں اور اکثر اس سے قبل خواب میں نظارہ دکھایا گیا اور اس انعکاس مشیت الہی کے تعلق میں صرف ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔میں کشمیر میں تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مکان ہے جس کے بالا خانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد ہیں۔او پر جانے کیلئے ایک لمبی سیڑھی ہے۔میں سیڑھی چڑھتے ہوئے بطور پہرہ دار دروازہ پر کھڑا ہو گیا ہوں۔اتنے میں دو شیطان (صورت) سادھوؤں کے، گیرورنگ کے کپڑے پہنے ہوئے اوپر سے آئے۔ایک بڑا ہے جس کا رنگ گندمی ہے اور ایک پست قد سیاہ فام۔بڑے کے چہرے پر پھولے ہوئے