حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 46 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 46

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 46 خود نوشت حالات زندگی تقاریر کے بعد میں بحیثیت صدر لوگوں سے مخاطب ہوا اور میں نے پُر امن رہنے کی تلقین کی اور زیادہ تر میری گفتگو اس موضوع پر تھی کہ حکومت کیلئے یہ شرط نہیں کہ ہندوؤں کی ہو یا مسلمانوں کی یا عیسائیوں کی ہو تو سبھی اس کے اغراض و مقاصد پورے ہوں۔حکومت کا کسی خاص مذہب سے واسطہ نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ کارکن اہل ہوں اور بنی نوع انسان کے ہمدرد ہوں اس کی مثال دیں۔میں نے کہا کہ ایک ہندو ڈاکٹر جب وہ ہمدردی سے لوگوں کی خدمت کرتا ہے تو سب لوگ ہندو عیسائی مسلمان اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔اس طرح ایک مسلمان یا عیسائی کا حال ہے یہ انسانی فطرت کی شہادت ہے کہ وہ خدمت خلق کے تعلق میں کسی مذہب کا سوال نہیں اُٹھاتی اور اس تعلق میں تازہ واقعہ بیان کیا۔سری نگر شہر میں فساد ہوا جس میں ایک دوسرے پر حملے ہوئے اور حکومت شہر کو بمبارڈ کرنے کی تیاری میں تھی میں نے مسٹر جارڈین سے شام تک مہلت مانگی اور شہر سری نگر کے محلہ میں کارکنان کے ساتھ چکر لگا کر لوگوں کا اشتعال ٹھنڈا کیا اور دو دن کے بعد امن بحال ہوا تو میں نے آخری چکر گھوڑے پر سوار ہو کر پنڈتوں کے محلہ میں لگایا۔ان دنوں مہاراجہ کشمیر سری نگر نہ تھے اور کرنل کا لون وزیر اعظم بھی کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔مسٹر جار ڈین ان کے قائم مقام تھے۔ان سے باصرار میں نے کہا کہ نہ پولیس بھیجیں نہ فوج۔میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔جب میں جائزہ لینے کی غرض سے پنڈتوں کے محلہ میں جانے لگا تو لوگوں نے مجھے منع کیا۔میں نے کہا میرے متعلق مطمئن رہیں۔شیخ محمد عبداللہ صاحب نے دو کارکن میرے ساتھ بھیجے۔چند پنڈت مجھے دیکھ کر شکر یہ ادا کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور میری رکاب کی طرف منہ بڑھا کر میرے بوٹ کو بوسہ دیا۔یہ انتہائی شکر کا اظہار تھا۔ہر مذہب وملت سے تعلق رکھنے والے ہمدردان بنی نوع کی مثالیں دے کر تقاضہ فطرت بشریہ اور اصول حکومت بیان کئے اور سامعین کو پُر امن رکھنے کی تلقین کر کے میں بیٹھ گیا۔میں نے یہ بھی کہا کہ حکام ہماری طرح انسان ہیں۔غلطی کر سکتے ہیں جیسا ہم کر سکتے ہیں۔بلکہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے ہماری