حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page v
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ایک عرصہ تک ان کا میرے ساتھ رابطہ رہا اور بعض ایسے بزرگوں کے حالات اکٹھے کئے گئے جو نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ان کی بڑائی کیلئے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کیلئے ، ان کی مثالوں کو زندہ کرنے کیلئے ان کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے آباؤ اجداد تھے اور کس طرح وہ لوگ دین کی خدمت کیا کرتے تھے۔بعض ایسے بھی ہونگے جن کو یہ استطاعت ہوگی کہ وہ ان واقعات کو کتابی صورت میں چھپوا دیں۔۔۔میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس نسل میں ایسے ذکر زندہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بھی بلند کرے گا اور آپ یا درکھیں گے کہ اگلی نسلیں اسی طرح پیار اور محبت سے اپنے سر آپ کے احسان کے سامنے جھکاتے ہوئے آپ کا مقدس ذکر کیا کریں گی اور آپ کی نیکیوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی“۔(روز نامہ الفضل ربوہ ۱۷۔مارچ ۱۹۸۹ء) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہزاروں جانثار اور دین سے محبت رکھنے والے وجود عطا فرمائے۔ان جانثاروں میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کا نام ایک خاص امتیاز رکھتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت شاہ صاحب کی عاجزانہ دعاؤں کے ثمرات نسلاً بعد نسل ان کا سرمایہ حیات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو شریف، پارسا اور صالح اولاد سے نوازا۔آپ کی اولاد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیض سے علوم و معارف حاصل کرنے کی سعادت پائی۔زیر نظر کتاب میں حضرت شاہ صاحب کے فرزند حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے حالات زندگی پیش کئے جارہے ہیں۔آپ حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ (اُمّم طاہر ) کے بھائی اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ماموں تھے۔