حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page iv
حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے اُذْكُرُوا مَوْتَكُمْ بِالْخَيْرِ یعنی حیات ابدی کا جام پینے والوں کا ذکر خیر کر کے ان کے اخلاق کو زندہ رکھا کرو۔اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سید نا حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کو بزرگان کے سوانح اور حالات زندگی جمع کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔اس امر کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ سمندر کی تہہ میں بغیر مقصد کے اپنی لاشیں بچھانے والے گھونگوں کی پہلی نسل اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اس کی آئندہ نسلیں ضرور فتح یاب ہونگی اور وہ نسل سب سے بڑی فتح پانے والی ہے جو سب سے پہلے ترقی کے سلیقے سکھاتی ہے۔پس اپنے ان بزرگوں کے احسانات کو نہ بھولیں جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں بچھاتے رہے جن پر احمدیت کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یہ عظیم الشان جزیرے اُبھرے۔وہ لوگ ہماری دعاؤں کے خاص حق دار ہیں۔اگر آپ اپنے پرانے بزرگوں کو ان عظمتوں کے وقت یادرکھیں گے جو آپ کو خدا کے فضل عطا کرتے ہیں تو آپ کو حقیقی انکساری کا عرفان نصیب ہوگا۔تب آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی ذات میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔میں نے افریقہ کے دورے میں ایک یہ ہدایت دی تھی کہ اپنے بزرگوں کی نیکیوں اور احسانات کو یادرکھ کے ان کیلئے دعائیں کرنا۔یہ ایک ایسا اچھا خلق ہے کہ اس خلق کو ہمیں اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہئے ان کے حالات کو زندہ رکھنا تمہارا فرض ہے ورنہ تم زندہ نہیں رہ سکو گے۔اس سلسلہ میں میں نے ایک ملک غالباً کینیا میں ایک کمیٹی مقرر کی تھی۔چنانچہ اس کمیٹی نے بڑا اچھا کام کیا اور