حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ

by Other Authors

Page 91 of 228

حضرت سید ولی اللہ شاہ ؓ — Page 91

حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب 91 ذكر حبيب ممکن ہے یہ خواہیں بچپن میں شنیدہ باتوں کے اثر کے ماتحت خواب کی صورت میں نظر آتی ہوں لیکن واقعات بتلاتے ہیں کہ وہ مہدی اور مسیح کے آنے کا عام چرچا اور یہ خواہیں جو بڑوں چھوٹوں کو اس زمانہ میں آیا کرتی تھیں آنے والے واقعات کے لئے بطور آسمانی اطلاع کے تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہم نے ( دین حق ) کا سورج بھی دیکھا اور قرآن مجید بھی پڑھا حضرت اقدس فرمایا کرتے تھے کہ ( دین حق ) کی زندگی میرے ساتھ وابستہ ہے اور مجھے چھوڑ کر قرآن مجید کا سمجھنا ناممکن ہے۔یہ دونوں باتیں سچ ہیں“۔الفضل قادیان ۳۱ مارچ ۱۹۴۳ء صفحه ۳) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فیضان نے ہماری روحوں میں جادو بھر دیا حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب ۱۹۰۳ء میں حصول تعلیم کے لئے قادیان پہنچے۔اس وقت ان کی دلی کیفیات کیا تھیں اور قادیان جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسیہ نے کیا مسیحائی فرمائی اس کی بابت آپ بیان فرماتے ہیں:- ۱۹۰۳ ء میں جب میرے والد بزرگوار حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھے اور میرے بھائی سید حبیب اللہ شاہ صاحب کو برائے تعلیم بھیجا تو ہم رعیہ سے قادیان کی طرف بڑے شوق اور خوشی سے روانہ ہوئے۔اس وقت ہماری عمر ۱۱ اور ۱۳ سال کے لگ بھگ تھی۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے کا شوق بہت تھا۔مگر ہمارے اس شوق کو صدمہ پہنچا جب ہم چوہڑوں کی تشفی کے پاس پہنچے ( جواب محلہ دارالصحت کہلاتا ہے اور جس کے مکین اب بفضل تعالیٰ قریباً سارے احمدی“ کہلاتے ہیں۔۔۔مدرسہ میں داخل ہوئے تو اس میں کوئی رونق نہیں تھی۔کچھ دیواریں، چھوٹے چھوٹے کمرے۔ہم نارووال مشن سکول میں پڑھتے تھے جس کی عمارت پختہ اور وسیع کمروں پر مشتمل تھی۔اس کے بالمقابل ہائی سکول کی عمارت بھیا نک سی معلوم ہوئی۔