ولادت سے نبوت تک

by Other Authors

Page 46 of 90

ولادت سے نبوت تک — Page 46

۴۶ لیکن کبھی مانگا نہیں۔اسی بات کو دیکھتے ہوئے آپ کے لئے وہ پہلے کھانا نکال کر رکھ دیتی تھیں۔بڑوں کا ادب، ان کا کہنا ماننا احترام کرنا ، چھوٹوں پر شفقت، ان کو کبھی نہیں ستایا یا مارا ، بزرگوں کی خدمت ، جو کہا وہ کام کر دیا۔یہ وہ باتیں تھیں جس کی وجہ سے آپ نہ صرف خاندان بلکہ مکہ کے لوگوں کی بھی آنکھ کا تارا تھے۔کبھی کسی نے آپ کی شکایت نہیں کی۔پھر جیسے جیسے بڑے کی۔ہوتے گئے آپ کی خوبیاں اور نمایاں ہو کر سامنے آتی گئیں کسی نے کوئی چیز آپ کے پاس رکھوائی تو اسی طرح محفوظ ملی۔جب چاہا واپس لے لی۔جس کی وجہ سے امین کہلاتے تھے۔غریبوں کی مدد کرنا ، کمزوروں پر رحم کرنا ، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، پھر ہر ایک کے دکھ کو دیکھ کر خود دکھی ہو جانا ، اس کی مدد کرنا سب کا بوجھ اٹھانا ، ہر ایک سے محبت اور شفقت کے ساتھ پلیش آنا۔احترام تو کمال تھا۔کیا غلام کیا بوڑھا ، کیا غریب کیا عورت یا بچہ سب کا احترام کرنا ، عزت دینا ، ہر بات کا خوش اخلاقی کے ساتھ مسکرا کر جواب دیا ، ہر ایک کی بات کو بڑے تحمل و حو صلے سے سننا ، پھر مشورہ دینا۔اور اگر کوئی گالی بھی دے تو اس کو بری بات نہ کہنا کیا پیاری عادتیں تھیں جو آپ میں نظر آتی تھیں۔یہ صرف اور صرف خدائی حفاظت اور تربیت کی وجہ سے تھا۔نو عمری میں بچے غلط باتیں سیکھ لیتے ہیں لیکن جن کے سر پر ماں باپ یا بزرگوں کا سایہ نہ ہو تو ان کا بگڑ جانا معمولی بات ہے لیکن کوئی بے راہ روی یا اخلاق اور کردار سے گرمی ہوئی حرکت اس پیارے