ولادت سے نبوت تک — Page 20
i دیکھ کر ڈرا۔لیکن ابھی وہ حیران ہی تھا کہ انہوں نے محمد کو زمین پر لٹا دیا اور سینہ چاک کر دیا۔بس پھر کیا تھا۔عبداللہ تو خوفزدہ ہو کر بھاگا اور چیختا جارہا تھا کہ میرے قریشی بھائی کو دو آدمیوں نے مار ڈالا۔اس کی آواز سُن کر گھر کے سب لوگ بھاگے۔آگے آگے حضرت حلیمہ دوڑی آرہی تھیں اور ان کے پیچھے حارث تھے۔آتے ہی انہوں نے پیارے محمد کو سینے سے لگایا۔جو خود بھی ڈرا ہوا تھا۔بچہ حضرت حلیمہ نے کیا کیا ؟ ماں جب انہیں ذرا تسلی ہوئی تو حضرت حلیمہ نے پوچھا کیا ہوا میرے بیٹے یہاں تو خون وغیرہ کچھ نظر نہیں آرہا۔پھر سینہ کھول کر دیکھا تو اس پر بھی کوئی نشان نہ تھا۔دونوں میاں بیوی حیران تھے کہ ماجرا کیا ہے۔جب آپ سے بار بار پوچھا کہ بتاؤ کیا ہوا ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دو آدمی سفید کپڑوں میں آئے۔انہوں نے عبداللہ کو توکچھ نہیں کہا صرف مجھے پکڑ لیا۔اور زمین پر لٹا کر میرا سینہ کھول دیا۔اس میں سے کچھ نکال کر باہر پھینکا۔پھر اس کو برابر کر دیا ہے بچہ امی۔جب خون بھی نظر نہیں آیا۔اور کوئی زخم کا بھی نشان نہ تھا تو یہ کیا ماجرا تھا۔؟ ماں اصل میں یہ ایک کشف تھا جو انسان کو جاگتے میں نظر آجاتا ہے۔اس نظارہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ محمد کے دل سے دنیا کی محبت اور ہر قسم کی گندگی کم عمری میں ہی نکال له سیرت خاتم النبیین جلد اول صفحہ ۱۲۲