وحی و الہام — Page 54
54 ہرگز نازل نہ ہوگی۔علامہ الوسی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں: اعْلَمْ أَنَّ بَعْضَ الْعُلَمَاءِ اَنْكَرُوْا نُزُولَ الْمَلَكِ عَلَى قَلْبِ غَيْرِ النَّبِيِّ لِعَدْمِ ذَوْقِهِ لَهُ وَالْحَقُّ إِنَّهُ يَنْزِلُ وَلَكَنْ بِشَرِيْعِةِ نَبِيِّنَا صَلَّى الله عليه وسلّم روح المعانی جزء 7 صفحہ 326) کہ تمہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ بعض علماء نے انکار کیا ہے۔غیر نبی کے دل پر فرشتہ کے نازل ہونے کا کیونکہ اس نے اس کا مزہ نہیں چکھا۔حق بات یہ ہے کہ فرشتہ تو نازل ہوتا ہے لیکن ہمارے نبی کریم ﷺ کی شریعت کے ساتھ ، نہ کہ کوئی دوسری شریعت لیکر۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد اس نے خود تحریر فرمایا ہے: " وَكَافِيُكُمُ مِنْ فَخْرِاَنَّ اللَّهَ افْتَتَحَ وَحُيَهُ مِنْ آدَمَ وَخَتَمَ عَلَى نَبِيِّ كَانَ 66 مِنْكُمْ وَمِنْ اَرْضِكُمْ - “ (التبلیغ روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 420) کہ (اے اہل عرب !) تمہارے لئے یہی کافی فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا آغاز آدم سے کیا اور ایک عظیم الشان نبی ( یعنی حمد ) پر ختم کی جو تم میں سے اور تمہارے ملک سے ہے۔“ یہاں حضرت مسیح موعود ال نے اہلِ عرب کو مخاطب کرتے ہوئے وحی کے ابتدائی درجہ اور پھر اس کے انتہائی نقطۂ عروج کی بات کی ہے۔یعنی حضرت آدم اللہ پر جو وحی نازل ہوئی وہ وحی کی ابتدائی حالت تھی جبکہ رسول اللہ ﷺ پر وحی ایسے کمال کو پہنچی کہ اس سے بڑھ کر اس کے علو اور اس کی رفعت کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔باقی جہانتک آپ کے بعد وحی کے نزول کا تعلق ہے تو گزشتہ صفحات میں اس کی تفصیل آچکی ہے کہ صحابہ سے لے کر اب تک یہ جاری ہے اور حضرت مسیح اﷺ پر نازل ہونے والی وحی الہی بھی اسی فیض کا