وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 47
۴۷ تھے نعوذ باللہ مکہ اور مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کے خواب دیکھ ہی رہے تھے که سید الانبیاء سید الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زندہ نشان ظاہر ہوا کہ آپ کی وہ پیاری آواز ہو ان عني اتى عَلَيْهِ الْفَناءِ کے الفاظ میں تیرہ سو سال پہلے مدینہ کی مسجد نبوی میں سنائی دی تھی ایک بار پھر لوری قوت اور شوکت کے ساتھ قادیان کی مسجد مبارک سے بلند ہونے گئی۔بلاوا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور زبان حضور کے فرزند جلیل اور عاشق صادق حضرت مسیح موعود مدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تھی۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قویت قد ستیہ کے فیض سے مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو کہ یہ اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح ابن مر تیم فوت ہو چکے ہیں ، اور زندہ نبی تمام سلسلہ انبیاء میں سے صرف اور صرف حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم میں چنا نچہ فرمایا : ار اسے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اسے تمام وہ انسانی رد ہو جو مشرق و مغرب میں آباد ہو ! ! میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اور حلال اور تقدس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے " تریاق القلوب مث ) ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔الهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ وَبَارِكْ ہے۔