وفات مسیح اور احیائے اسلام

by Other Authors

Page 18 of 72

وفات مسیح اور احیائے اسلام — Page 18

JA تو اُسے تمہارے پاس بھیج دونگا اور وہ آکر دنیا کوگناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔تم مجھے پھر نہ دیکھو گے مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہا ہے گراب تم آنکو برداشت نہیں کر سکتے، لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی روح دکھائے گا اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہینگا لیکن جو کچھ سنے گا رہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبر میں دیگا۔(یوحنا : باب : آیت ۱۴۷) اب ظاہر ہے کہ وہ بنی اسرائیلی جن کو حضرت مسیح علیہ السلام یہ بشارت دینے کے لیے مبعوث ہوئے تھے وہ آسمان پر نہیں تھے بلکہ جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے فلسطین سے لے کر کشمیر تک پھیلے ہوئے تھے لہذا حضرت مسیح علیہ اسلام کو اپنے اصل مشن کی تکمیل کے لیے آسمان پر جانے کی بجائے اُن علاقوں کی طرف جانا چاہیئے تھا جن میں بنی اسرائیل کے بقیہ دنش قبائل آباد تھے اور انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنے السی مشن سے بخوبی آگاہ تھے اور ابتدائے ماموریت سے ہی بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل تک پہنچنے کا عزم رکھتے تھے، چنانچہ متی کی انجیل میں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا " (باب ۱۵ آیت ۲۴) اور انجیل یوحنا میں آپ کا یہ فرمان درج ہے کہ اچھا چرواہا میں ہوں جس طرح باپ مجھے جانتا ہے اور میں باپ کو جانتا ہوں اسی طرح ہیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں اور میں بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہوں اور میری اور بھی بھیریں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں۔مجھے اُن کو بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری وو