وفا کے قرینے — Page 72
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 72 حاسد جمال حق کو جو دیکھے تو کس طرح پردہ پڑا ہوا ہے نظر کے قصور کا شیدا ہیں ہم تو حُسن رُخ بے مثال کے زاہد ہے شیفتہ تو ہو شیفتہ تو ہو غلمان و حور کا بے شبہ بیڑا پار ہے دونوں جہان میں اُمیدوار رحمت رب غفور کا راحت ہر ایک رنج ہے ہر درد ہے دوا سرور کا لیتا مزہ ہے عاشق صادق بے کھٹکے آئے بیٹھ لو کشتی نوح میں طوفان غم ہے ، نه جو ارادہ عبور کا آئے نہ کیوں عذاب الہی کہ رات دن مشغلہ جہان میں فسق و فجور کا ہے توبہ کرو ، ڈرو ، نہ کرو ضد و سرکشی بھڑ کا ہوا غضب ہے خدائے غیور کا چپکے آکے دامن محمود تھام لو سنو نہ قول کسی بے شعور کا