وفا کے قرینے — Page 60
حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ 60 60 اس کے آگے کر دیا ہم نے سر تسلیم خم ہے پتہ کی بات اس کے سامنے مارا نہ دم تھا خدا کا ہاتھ ہی تھا جو ہمارے ہاتھ پر ہم سے خدا کی بات پر عہد تھا بس لے لیا اک حکومت تھی ہمارے طور پر عادات پر جس کا قابو تھا ہمارے نفس کے جذبات پر توڑ دی بیعت تو پھر بیعت کئے آخر بنی تھی مصیبت جو ہماری جان اور دم پر بنی مختصر یہ ہے کہ بیعت کر کے ہم زندہ ہوئے جو پریشاں پھر رہے تھے آخرش یکجا ہوئے رشتہ وحدت میں آئے اور کیا سے کیا ہوئے عیسی احمد میں مِٹ مٹ کر دمِ عیسی ہوئے زندہ کر لینا ہمیں مُردوں کا آساں ہو گیا اکمه و ابرص کے دُکھ کا ہم سے درماں ہو گیا یہ جو کچھ حاصل ہوا وحدت کی برکت سے ہوا تور دیں کے فیض سے اور اس کی صحبت سے ہوا یہ جماعت سے ہوا اور احمدیت سے ہوا کہہ بھی دو کیا دیر ہے سب کچھ یہ بیعت سے ہوا