وفا کے قرینے — Page 479
حضرت خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ علی بنصرہ العزیز 479 یادوں کے دیپ مکرم عبدالصمد قریشی صاحب، ربوه ہجر کے رنج و الم دل میں بسائے رکھنا ان کی یادوں کے سبھی جلائے رکھنا دیپ وہ کہ اک شخص تھا شاداب بہاروں جیسا اس کی خوشبو خیالوں کو سجائے رکھنا ނ دیکھ لینا کبھی سپنوں میں چلے آئیں گے دل کی دہلیز پہ اک شمع جلائے رکھنا بھول سکتا ہے بھلا کون وہ انداز بیاں علم و عرفان کی اک شمع جلائے رکھنا اپنا اندازِ محبت ہے زمانے سے جُدا چاند کے گرد یوں ہالہ سا بنائے رکھنا اس کا احساں ہے ہمیں حضرت مسرور ملے اپنی پلکوں کو اسی در پہ جھکائے رکھنا