وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 364 of 508

وفا کے قرینے — Page 364

حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحم الله تعالی 364 اللہ نے ہے خوف کو پھر امن میں بدلا محتر مہ طیبہ رضوان صاحبہ، ناروے یہ کس کی جدائی ہے زمیں کانپ گئی ہے وہ مردِ خدا ، مردِ خدا ، مردِ وہ خدا ہے مظہر رابع تیری قدرت کا تھا مولیٰ جو درد کے ماروں سے جُدا ہو کے گیا ہے محبوب تھا ، دلدار تھا ، ستار تھا سب کا ہر سینے میں روشن اسی اُلفت کا دیا ہے ہر لمحہ رہا دین کی خدمت میں ہی وہ وقف علموں کا خزانہ بھی وہ اک چھوڑ گیا ہے راضی تھا خدا سے تو ، خدا اُس سے تھا راضی واللہ وہ اس کے بلاوے پہ گیا ہے اب تو ہی بتا کیسے کہیں درد جدائی یہ غم تری فرقت کا تو ، ہر غم سے سوا ہے دل زخمی ہے اور اشک بھی تھمتے نہیں لیکن راضی ہیں اسی میں کہ جو مولیٰ کی رضا ہے یادیں تیری سینے سے مٹائے نہ مٹیں گی بھر دے اسے مولیٰ ! میرے دل میں جو خلا ہے