وفا کے قرینے — Page 363
حضرت خلیفة المسیح الرابع رحم اللہ تعالی 363 یار طرحدار کی باتیں مکرم انور ندیم علوی صاحب آ ! پھر سے کریں یار طرحدار کی باتیں مہکتے ہوئے گلزار کی باتیں خوشبو سے خوابوں میں جو آتا ہے ، خیالوں میں رچا ہے جو دل میں بسا ہے اُسی دلدار کی باتیں ہر تیر ستم اپنے ہی سینے پہ جو روکے جو ڈھال ہے مظلوم کی اس یار کی باتیں یہ درد کی سوغات ، عطا ہے تری مولا! ہر غم کا مداوا ترے دلدار کی باتیں سب صبر کے انداز ہمیں اس نے سکھائے ہے غمخوار کی باتیں بھلا سکتا دل کیسے بھلا نفرت نہیں انسان سے دستور ہمارا دنیا میں کرو سب فقط پیار کی باتیں چھین مرے ہاتھ سے تو تیغ قلم کو اب چھوڑ دے اے شیخ! یہ تلوار کی باتیں