وفا کے قرینے — Page 6
حضرت خلیفة المسیح الاول رضی الله عنه 6 اک دوسرے پر جان دیں منوائیں کچھ ، کچھ مان لیں اور صدق دل سے جان لیں چارہ بغیر اس کے نہیں ہو اک امام و مقتدا ، محمود احمد میرزا ہر دلعزیز و پارسا ، عالم باعمال متیں فاروق ہے سرگرم ہے ، دل کا نہایت نرم ہے آنکھوں میں اس کی شرم ہے چہرہ ہے یا ماہ مبیں اے کاش! وہ آتے یہاں ، قرآن کا سنتے بیاں وہ نکتہ ہائے دلستاں جو ہیں غذائے مؤمنیں مرکز بناتے قادیاں ، جو کچھ ہے لاتے قادیاں آتے تو آتے قادیاں ، مامن بنا لیتے ہیں دارالاماں کو چھوڑ کر ، اللہ سے منہ موڑ ہاں عہد اپنا توڑ کر ، جاتے نہ پھر ہر گز کہیں اے نورِ دین مصطفیٰ ، میں قبر پر تیری کھڑا رونا وہی رونے لگا، جس سے مرا دل ہے حزیں میں ضبط سے معذور ہوں ، اس خبط سے مجبور ہوں خدمت سے تیری دور ہوں کچھ سوجھتا مجھ کو نہیں اکمل کا جی گھبرا گیا ، اس واسطے یاں آگیا اس کو تو یہ غم کھا گیا ، مانا نہ حکم نور دیں