وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 5 of 508

وفا کے قرینے — Page 5

حضرت خلیفہ المسیح الا ول رضی اللہ عنہ 5 صبح کے دس منٹ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے مزار پر انوار پر حضرت قاضی ظہور الدین اکمل صاحب آپ اے امیر المؤمنیں آپ اے امام منتظمیں ہر وقت ہم کو یاد ہو بھولے نہیں بھوکے نہیں اسلام کے ماہ میں اے آفتاب علم و دیں کیوں چھپ گئے زیر زمیں چمکو بانوار یقیں مضحل بے چین ہے پہلو میں دل جانِ حزیں ہے سینہ پر اپنے رکھ کے سل رہتے ہیں ہم اندو نگیں نالائقی اُس قوم کی کچھ بھی نہ جس نے قدر کی وہ رسم الفت چھوڑ دی باہم بڑھالیا بغض و کیں اف کیا کہوں کیا ہو گیا جو مال تھا وہ کھو گیا بیدار ہو کر سو گیا یہ مجمع اخوانِ دیں یا رب یہ کیا اندھیر ہے قسمت کا کیسا پھیر ہے تیرے کرم کی دیر ہے ہاں بات تو کچھ بھی نہیں اے کاش وہ سوچیں بھی آیا تھا ہم میں اک نبی اُس نے ہمیں تعلیم دی مل کر کریں خدمات دیں جوں دانہ تسبیح ہم ، ہوں ایک رشتے میں بہم جاتے رہیں سب غم و ہم ، خوشیاں منائیں ہم یہیں