وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 292 of 508

وفا کے قرینے — Page 292

حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمه الله تعالی 292 بحرِ طوفاں خیز آخر کرلیا اس نے عبور زورق اسلام کا چوکس وہ کشتی بان تھا سیل کفر و شرک کی وہ بے پناہ جولانیاں روکنے کو ان کے وہ اسلام کی بنیان تھا تیر کھائے اپنے سینے میں ہزاروں اُس نے تھے تھا جماعت کا نگہباں اور پیشتی بان تھا غیر ملکوں میں گیا باتزک و باصد احتشام اس کی برکت سے بیاباں بن گیا بستان تھا اس کے اک خادم نے حاصل کرلیا نوبل پرائز علم کی دُنیا کا وہ شاہنشہ ذیشان تھا کہکشاں مریخ و مہر و ماہ اس کے ہم سفر داستان جرات و ہمت کا وہ عنوان تھا تھی جماعت کی فلاح کا رات دن اس کو خیال اس لئے محو دُعا شام و سحر ہر آن تھا ذره خاک وطن کرتا تھا اس پر فخرو ناز افتخار ملک وہ فرزند پاکستان تھا