وفا کے قرینے — Page 263
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 263 خبر وہ فضلِ عُمر کی پوری ہوئی کہ آیا ہے آنے والا چلو میں فتح و ظفر لئے اور نصر تیں ہم رکاب ساقی حصار امن و اماں میں اُن کو بھی لا ! جو ہم سے بچھڑ گئے ہیں جو چھوڑ کر شہر عافیت کو ہوئے ہیں خانہ خراب ساقی درود اس پر سلام اُس پر کہ جس نے تیرا پتہ دیا ہے پلائی ہے جس نے مجھہ روحوں کے واسطے بے حساب ساقی ہم اُس کی اُلفت میں جی رہے ہیں ہم اس کی عزت پہ مررہے ہیں ہماری موت و حیات عشق نبی سے ہے فیضیاب ساقی اگر چہ کمزور و ناتواں بہوں پر شاہ کونین کا پکواں ہوں عطا مجھے زورِ حیدری کر ، بلند ہے انتساب ساقی ظفر کو بھی سر فراز کر دے ہو تیرے قدموں کی اوج ظاہر میں تیرے پاؤں میں آگرا ہوں اے میرے عالی جناب ساقی