وفا کے قرینے — Page 262
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 262 نظام قدرت ثانیہ مکرم راجہ نذیراحمد ظفر صاحب ،ربوه بھڑک رہی ہے اگر چہ دوزخ، پہ تیرے مستوں کو فکر کیوں ہو برس رہا ہے ہمارے سر پر ترے کرم کا سحاب ساقی ہماری جنت ، ہماری دوزخ، رضا و ناراضگی جاناں نہ ہم کو حرص ثواب ساقی نہ ہم کو خوف عذاب ساقی طریق روحانی میکدے کا یہ کتنا دلکش ہے کتنا پیارا اُسی کو چلتے ہیں سارے میکش کرے جسے انتخاب ساقی وہی ہے آج اپنا میر محفل کہ جس کے سینے میں ضوفشاں ہیں علوم و حکمت کی مشعلیں اور تیری اُتم الکتاب ساقی یہ ہاتھ جو ہاتھ میں ہے سب کے یہ تیری حبل متیں ہے مولا نظام وابستہ جس سے ہم ہیں، جہاں میں ہے لا جواب ساقی سپر امامت کی دے کے ہم کو بچا لیا یورشِ عدو سے ترے تشکر میں جھک رہی ہے جہین ہر شیخ و شاب ساقی