وفا کے قرینے — Page 233
حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحم الله تعالی 233 نہ اس قوت کی جب تک ہو دل و جاں پر عملدای! نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری ہیں تو نعمت عظمی تھی اک ملت کا سرمایا کوئی کو اچھے۔مسلمانوں نے اس کو کھو کے کیا پایا بهم بخض و حسد فتنه گری ، اذبار و رُسوائی عداوت، تفرقہ ، بے رہروی ، ہنگامہ آرائی بلائیں تیرتی پھرتی ہیں موجوں کے تھیٹروں پر قضا کے تیر ہیں ایمان کے کمزور بیڑوں پر نہنگان اجل کی نیتیں بیدار پر مائل شب تاریک بیم موج گرد اب چنیں حائل تقاضا ہے کوئی اس وادی پر خار میں آئے لئے کشتی ، بڑھے اور حلقہ منجدھار میں آئے خلافت سے جو وابستہ ہو جان و دل ، شار اُس پر گرم کے پھول اُس پر، رحمت پروردگار اس پر