وفا کے قرینے — Page 204
حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحم اللہ تعالی 204 چشم و دل کے تقاضے بہل جائیں گے آرزوؤں کی دنیا نکھر جائیگی ہم تو اک ماہ نو سے بھی تھے مطمئن شکر صد شکر رشک قمر آ گیا یہ تلاش مسلسل مبارک تجھے تیرے شوقِ سفر پر ہزار آفریں اب اگر خود بخود تھک گئی ہے جبیں دیکھ شاید کوئی سنگ در آ گیا جب سُنا حسن والا تبار اک نئے جلوہ خوبرو سے ادھر آئیں گے اپنے گمنام گوشے سے اُٹھا نسیم اور چل کرسر را بگذ رآ گیا * مکرم شیدا گجراتی صاحب کا شانہ احمد میں چراغاں ہی رہے گا اسلام کا ہر نقش نمایاں ہی رہے گا جس قافلہ شوق کا سالار ہے ناصر وہ قافلہ شوق خراماں ہی رہے گا