وفا کے قرینے — Page 203
حضرت خلیفة المسیح الثالث رحم اللہ تعالی 203 برکات خلافت مکرم مولا نا نیم سیفی صاحب رات ڈھلتی رہی وقت کما رہا ہولے ہولے پیام سحر آ گیا دور پر دور آتے رہے تو بہ تو آخرش دور صبح و ظفر آ گیا اہل باطل کا کھلنے لگا ہر بھرم اہلِ حق کے قدم تیز تر ہو گئے منزلیں خود قریب آگئیں ، راہرو کو کچھ ایسا طریق سفر آ گیا لے سے آنکھوں میں دین محمد کی شو چل پڑا سوئے صحرا ہر اک تیز رو جذبہ خدمت دین احمد لئے آج ہر اہلِ قلب و جگر آ گیا زندگی کے قرینے سکھائے گئے بہت مرگ معدوم کر دی گئی مردِ مومن اُٹھا اور ہر معر کے کیلئے ہو کے سینہ سپر آ گیا اہل الہام کو تو یہیں آگئی آسمانوں سے بشریٰ لکم کی ندا اہل عقل و خرد جب خلا میں گیا تو وہاں سے بھی وہ بے خبر آ گیا اللہ اللہ نظام خلافت سے نو ر نبوت کی چپکا ر قائم رہی کارواں کے سفر کا تسلسل ہے یہ راہبر چل بسا را ہر آ گیا