وفا کے قرینے

by Other Authors

Page 179 of 508

وفا کے قرینے — Page 179

حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 179 مکرم شاہد اعظمی صاحب، گوجره عرفان کی شراب پلاتا رہا ہمیں جنت کی راہ جو چلاتا رہا ہمیں ہر فرق نیک و بد کا بتاتا رہا ہمیں کیا کیا کہوں کہ کیا کیا سکھاتا رہا ہمیں وہ جس نے علم و فضل کے دریا بہا دیئے سائل گواہ ہیں کہ خزانے لٹا دیئے وہ جس نے کفر و شرک کے ایواں گرا دیئے چہرے پہ حق کے جتنے تھے پردے ہٹا دیئے محمود خود تھے ہم کو بھی محمود کر گئے گردش میں ہر ستارے کو مسعود کر گئے ملت سے کفر و شرک مفقود کر گئے باطل کو حق کے سامنے مسجود کر گئے عالم ولی مقرر و زاہد حضور تھے عشق رسُول رکھتے تھے عابد حضور تھے جس چاند کی ضیاء سے منور تھا اک جہاں کہتا ہوں سچ کہاں دنوں روشن تھا آسماں