وفا کے قرینے — Page 162
حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ 162 شیرازه اسلام بکھرنے ہی لگا تھا دانائی حیدر نے مگر اس کو سنبھالا ہم کو یہ سبق دیتی ہے عثماں کی شہادت جاں دے دو مگر چھوڑو نہ دامان خلافت لازم ہے بہر حال رہے دین سلامت دُنیا میں نہیں اس سے بڑی کوئی بھی دولت لازم ہے رہے یاد ہمیں اسوة عثمان پہلوں کی طرح ہم بھی نہ کھو دیں کہیں ایمان اب چوتھے خلیفہ ہوئے ابنِ ابی طالب ایسے میں چناؤ تھا یہی سب سے مناس خطرہ تھا نہ ہو جائیں منافق کہیں غالب اسلام تھا نرغے میں ز اطراف و جوانب لیکن بخدا تھی یہ خلافت ہی کی برکت دشمن ہوئے ناکام ملی دین کو نصرت کی پانچ برس حضرت حیدر نے خلافت جاں توڑ کے گو آپ نے کی دین کی خدمت سازش میں تھے مصروف مگر دشمن ملت در پرده منافق بھی تھے سرگرم شرارت