وفا کے قرینے — Page 122
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 122 جانب محمود دیکھ اور مصلح موعود دیکھ ! مکرم روشن دین تنویر صاحب پڑھ ذرا سبز اشتہار اور جانب محمود دیکھ! جانب محمود دیکھ اور مصلح موعود دیکھ! کر رہی تھی مدتوں سے جس کا قومیں انتظار اس کے فضل و رحم کے ساتھ آج اسے موجود دیکھ ! مہر عالمتاب کی مانند روشن ہیں نشاں کونسا پیشگوئی کا یہی مصداق ہے مولود دیکھ ! جو نشاں ثابت نہیں محمود میں؟ ہے یہ ذہانت یہ اولوالعزمی یہ بذل وجود دیکھ ! آج دنیا کے کناروں تک وہ شہرت پا گیا تین صدیوں کی طرف غافل نہ تو بے سود دیکھ ! کیا نہیں ہے مظہر نورِ خدا اس کی جبیں؟ یہ جبیں سجدوں سے جو رہتی ہے گرد آلود دیکھ ! جس طرف بھی اٹھ جس طرف بھی اٹھ گئی ہے اس کی حق پرور نظر نسل باطل ہو رہی ہے نیست و نابود دیکھ! اک نگاہِ مہر اے تنویر تھی اٹھنے کی دیر ہو رہے ہیں سب اندھیرے خود بخود مفقود دیکھ !