وفا کے قرینے — Page 87
حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ 87 جذ بات مهجور مکرم مہجور پسروری صاحب دربارِ خلافت میں پہنچے سر سبز ہوئے آباد ہوئے سب رنج مئے تسکین می نغم دور ہوئے دل شاد ہوئے ہر وقت دلوں میں ہے اپنے ایمان خدا کی نصرت پر رنجوں کی کبھی پرواہ نہ کی گو ہم وقف بیدار ہوئے آپس میں محبت رکھتے ہیں دل موم کی صورت ہیں سب کے دشمن کے مقابل پر آکر پتھر کے بنے فولاد ہوئے سر کو جھکا کر مقتل میں خوش شوق شہادت میں پہنچے پر اپنے آمادہ شمشیر بکف جلاد ہوئے تم ظلم وستم کے بانی ہو ، اور جور و جفا کے موجد ہو ہم رنج والم سمہ سہ کے پہلے ہم کھانے میں استاد ہوئے ارشاد الہی پر حوروں نے باب اثر کو کھول دیا جب وقت سحر نالے اپنے مائل بہ لب فریاد ہوئے تاوقت مقدر مجبوراً افسردہ گلوں کا ساتھ دیا گوہم پرستم مالی نے کئے صد ہا جو ر صیاد ہوئے مہجور پھنسے تھے مدت سے تم دھوکے کی زنجیروں میں سب بند خدا نے توڑ دئے صد شکر کہ پھر آزاد ہوئے