اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 84 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 84

اسوہ انسان کامل 84 حق بندگی ادا کر نے والا۔۔۔۔عبد کامل نبی کریم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر مدینہ سے یہود بنی قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہوتے ہوئے صحابہ کو یہ ہدف دیا کہ عصر کی نماز بنو قریظہ جا کر ادا کی جائے۔( بخاری ) 14 یوں آپ نے حالت سفر میں بھی نماز کی حفاظت کا پیشگی انتظام فرما کر اپنے صحابہ کو ایک سبق دیا۔سفر میں جدھر سواری کا رخ ہوتا رسول کریم علیہ اسی طرف منہ کر کے نفل نماز سواری پر ادا فرمالیتے تھے۔(ابو داؤد 15 ) تاہم فرض نمازیں ہمیشہ قافلہ روک کر با جماعت قصر اور جمع کر کے ادا کرتے۔( بخاری 16 ) بارش کی صورت میں بعض دفعہ آپ نے سواری کے اوپر بھی فرض نماز ادا کی ہے۔(ترمذی) 17 ایک سفر میں رات کے آخری حصہ میں پڑاؤ کرتے ہوئے حضرت بلال کی ڈیوٹی فجر کی نماز میں جگانے پر لگانی گٹھی مگرا ان پر نیند غالب آگئی۔دن چڑھے سب کی آنکھ کھلی۔فجر کی نماز میں تاخیر ہو چکی تھی۔پریشانی کے عالم میں رسول اللہ نے اس جگہ مزید رکنا بھی پسند نہیں فرمایا جہاں نما ز ضائع ہوئی اور آگے جا کر نماز ادا کی۔( بخاری ) 18 رسول کریم جنگ کے ہنگامی حالات میں بھی نماز کی حفاظت کا خاص خیال رکھتے تھے۔غزوہ بدر سے پہلے اپنی جھونپڑی میں نماز کی حالت میں گریہ وزاری کر رہے تھے اور تین سو تیرہ عبادت گزاروں کا واسطہ دے کر دراصل آپ نے دعاؤں کے ذریعہ اس کو ٹھری میں ہی یہ جنگ جیت لی تھی۔غزوہ احد کی شام جب لوہے کے خود کی کڑیاں دائیں رخسار میں ٹوٹ جانے سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔آپ زخموں سے نڈھال تھے اور ستر صحابہ کی شہادت کا زخم اس سے کہیں بڑھ کر اعصاب شکن تھا۔اس روز بھی آپ حضرت بلال کی نداء پر نماز کیلئے اسی طرح تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لاتے تھے اور چشم فلک نے قیام عبادت کا ایسا حیرت انگیز نظارہ دیکھا جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا ہوگا۔(واقدی)19 غزوہ احزاب میں دشمن کے مسلسل حملہ کے باعث عصر کی نماز وقت پر ادا نہ ہوسکی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔وہی رسول خدا جو طائف میں دشمن کے ہاتھوں سے لہولہان ہو کر بھی ان کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں۔نماز کے ضائع ہونے پر بے قرار ہو کر فرماتے تھے۔خدا ان کو غارت کرے انہوں نے ہمیں نماز سے روک دیا۔پھر حضور نے اصحاب کو اکٹھا کیا اور نمازیں ادا کروائیں۔( بخاری ) 20 رسول کریم ﷺ نماز با جماعت کے اہتمام کا اس قدر خیال تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر شہر کے ایک جانب مسجد الحرام سے کافی فاصلے پر قیام کے باوجود آپ با قاعدہ تمام نمازوں کی ادائیگی کے لئے حرم تشریف لاتے رہے۔جنگوں کے دوران خطرے اور خوف کی حالت میں بھی آپ نے نماز نہیں چھوڑی بلکہ اس حال میں صحابہ کو اس طرح نماز پڑھائی کہ ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا اور دوسرے نے آپ کے ساتھ نصف نماز ادا کی۔پھر پہلے گروہ نے آکر