اسوہء انسانِ کامل — Page 649
نبیوں میں سب سے بزرگ اور کامیاب نبی 649 اسوہ انسان کامل tiaras was obeyed as this man in a cloak of his own clouting۔During three-and-twenty years of rough actual trial۔I find something of a veritable Hero necessary for that, of itself۔۔۔۔To the Arab Nation it was a birth from darkness into light; Arabia first became alive by means of it۔A poor shepherd people, roaming unnoticed in its deserts since the creation of the world: a Hero-Prophet was sent down to them with a word they could believe: see, the unnoticed becomes world-notable, the small has grown world-great; within one century afterwards,۔۔۔the Great Man was always as lightning out of Heaven; the rest of men waited for him like fuel, and then they too would flame۔" (22)۔ترجمہ : ” ( نعوذ باللہ ) ایک جھوٹے آدمی نے مذہب کی بنیاد رکھی؟ ممکن نہیں کہ وہ بارہ صدیوں تک قائم رہے اور ایک ارب اسی لاکھ انسانوں کے دلوں کو مسخر کرے۔یہ تو خود بخو د نابود ہو جائے گا۔ہم اگر محمد کے کام کو جنون یا ڈرامہ بازی کا نام دیں یا شہرت حاصل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرنے والا تو یہ ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا۔آپ مد بر تھے۔ہم ہم اسے ایسا نہیں سمجھ سکتے۔اس دینا کے خالق نے حکم دیا تھا کہ دنیا کو روشن کر دے۔صحرا کا یہ وسیع القلب سپوت اپنی سیاہ روشن آنکھوں اور دوسروں میں گھل مل جانے والی طبیعت کے ساتھ اپنے ذہن میں ایک جنون کی بجائے کچھ اور خیالات رکھتا تھا۔محمد کا تلوار کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔بالکل ! تلوار ہی کے ساتھ ہی ہوا ہو گا ؟ مگر آپ اپنی تلوار کہاں سے لیں گے؟ ہر نیا نظریہ یہ اپنی ابتدائی شکل میں مختصر طور پر ایک اکائی سے شروع ہوتا ہے۔ابھی تک وہ ایک تن تنہا آدمی کے ذہن کے کسی گوشے میں ہی رہتا ہے۔صرف ایک آدمی تمام دنیا میں سے اس بات پر ایمان رکھتا ہے۔صرف ایک آدمی تمام دنیا کے مد مقابل کھڑا ہوتا ہے۔اس حال میں تلوار اٹھانا اور اس کے ذریعے اپنا مذہب پھیلانے کی کوشش کرنا اس کیلئے ہرگز فائدہ مند ثابت نہ ہو گا۔“ 18۔ڈاکٹر گستا وویل (1808 - 1889ء) آنحضرت کی پاکیزہ سیرت کے متعلق یوں گویا ہیں کہ :۔"Muhammad set a shining example to his people۔His character was pure and stainless۔His house, his dress, his food۔they were characterized by a rare simplicity۔So unpretentious was he that he would receive from his companions no special mark of reverence, nor would he accept any service from his slave which he could do