اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 586 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 586

اسوہ انسان کامل صفائی اور خوشبو 586 ہمارے مطہر رسول کی طہارت و پاکیزگی نبی کریم گھر کی عورتوں کو بھی صاف ستھرا رہنے کی تلقین فرماتے۔ایام مخصوصہ کے بعد نہانے کا حکم دیتے۔اسی طرح میاں بیوی کے تعلقات کے بعد نہانے کا ارشاد فرماتے اور بڑی پابندی سے اس پر عمل فرماتے۔ذاتی جسمانی صفائی پر بھی زور دیتے اور اس کا خاص خیال رکھتے بالخصوص زیر ناف اور بغل کے بال صاف کرنے ہونچھیں کانٹے اور ناخن کٹوانے کی ہدایت کرتے اور فرماتے کہ چالیس دن سے زیادہ یہ بال اور ناخن بڑھنے نہیں چاہئیں۔(بخاری) 11 آپ فرماتے تھے ناخنوں کی میل دیکھ کر مجھے وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو بھی استعمال کرتے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں یا یہ اسراف میں داخل نہیں کہ عام کام کاج اور محنت مزدوری کے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے لئے دو صاف ستھرے جوڑے کپڑوں کے بنالے۔(ابوداؤد )12 رسول اللہ نے فرمایا کہ دین کی بناء صفائی پر ہے۔آپ خود اعلی درجہ کی خوشبو استعمال فرماتے تھے۔حضرت انس بیان کرتے تھے کہ میں نے کبھی مشک وغیرہ یا کسی اور چیز کی ایسی خوشبو نہیں سونگھی جو رسول اللہ ﷺ کی خوشبو سے بہتر ہو۔حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک دفعہ میرے گال پر ہاتھ پھیرا تو آپ کے ہاتھ سے میں نے ایسی اعلیٰ درجہ کی خوشبو محسوس کی۔جیسے وہ ابھی عطار کی صندوقچی سے باہر نکلا ہو۔( مسلم ) 13 نبی کریم کے پسینہ سے بھی خوشبو کی مہک آتی تھی۔آپ ایک دفعہ حضرت انس بن مالک کے گھر سو گئے۔تو انس کی والدہ ام سلیم ( جو آپ کی رضاعی خالہ تھیں) ایک شیشی لے کر آئیں اور اس میں حضور کا پسینہ جمع کرنے لگیں۔رسول اللہ نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگیں کہ ہم یہ پسینہ کے قطرے اپنی خوشبو میں ملا دیں گے تو وہ بہترین خوشبو بن جائے گی۔(مسلم) 14 حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم جس راستہ سے گزر جاتے تھے۔اگر کوئی پیچھے جاتا تو حضور رات کو اپنی مخصوص خوشبو کی وجہ سے پہنچانے جاتے تھے اور پتہ چل جاتا تھا کہ ابھی حضور یہاں سے گزر کر گئے ہیں۔( دارمی ) 15 دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتے۔فرماتے کہ اگر میں اُمت پر گراں خیال نہ کرتا تو ہر نماز کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا۔( بخاری ) 16 خود کئی مرتبہ دن میں مسواک کرتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ گھر داخل ہوتے ہوئے بھی مسواک کرتے اور باہر جاتے ہوئے بھی۔( مسلم ) 17 فرمایا کرتے تھے کہ مسواک منہ کو صاف رکھنے کا آلہ اور اللہ کی رضا مندی کا موجب ہے۔( بخاری ) 18 اپنی آخری بیماری میں حضرت عائشہ کے بھائی عبدالرحمان کو مسواک کرتے دیکھا تو اُسے لینے کے لئے خواہش کے ساتھ دیکھا جسے حضرت عائشہ سمجھ گئیں۔انہوں نے بھائی سے مسواک لے کر حضور کو چبا کر دی جو آپ نے استعمال فرمائی۔( بخاری )19