اسوہء انسانِ کامل

by Other Authors

Page 585 of 705

اسوہء انسانِ کامل — Page 585

اسوہ انسان کامل 585 ہمارے مطہر رسول کی طہارت و پاکیزگی ہو کر رسول کریم ہاتھ اچھی طرح صاف کرتے اور مٹی یا زمین میں رگڑ کر دھوتے تھے۔(ابن ماجہ )5 اہل قیا جو پانی سے استنجاء کرتے تھے ان کی تعریف میں وہ آیت اتری جس میں یہ ذکر ہے کہ ان لوگوں سے خدا محبت کرتا ہے جو پاک صاف رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔( سورۃ التوبہ: 108) رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے نازل ہونے پر اہل قبا سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی اور تمہارے لئے اپنی رضا اور محبت کا ذکر کیا ہے۔بتاؤ تو سہی تمہاری طہارت کا طریق کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم رفع حاجت کے بعد صفائی کے لئے محض ڈھیلے یا پتھر پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ پانی ضرور استعمال کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کی تعریف کی ہے۔“ ( ترمذی ) 6 وضو اور غسل کے آداب پانی صفائی کے لئے بہترین چیز ہے اسلام نے دن میں پانچ نمازوں کے لئے وضو اور بعض صورتوں میں غسل کے احکام دے کر بہترین صفائی کی بنیا درکھ دی۔نبی کریم جس طرح وضو فرماتے تھے اگر آج بھی اس کی مکمل پیروی کی جائے تو علاوہ برکت و ثواب اور طہارت وصفائی کے حصول کے انسان کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتا ہے۔رسول کریم کے وضوء کا طریق یہ تھا کہ پہلے تین مرتبہ ہاتھ دھوتے تھے پھر تین مرتبہ کلی کرتے۔تین مرتبہ ناک میں پانی ڈال کر اسے صاف کرتے۔پہلے دایاں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے پھر بایاں پھر سر پر مسح فرماتے پہلے دایاں پاؤں دھوتے اور پھر بایاں۔( بخاری 7 ) اس طرح کے مکمل وضوء سے نصف غسل تو خود بخود ہو جاتا ہے۔وضو کرتے ہوئے نبی کریم ریش مبارک کو بھی پانی سے دھوتے اور اندر انگلیاں پھیر کر خلال فرما لیتے تھے تاکہ مٹی وغیرہ سے صفائی ہو جائے۔اسی طرح انگلیوں کے اندر جوڑوں اور فاصلوں کی صفائی کرتے۔کانوں کی اندر اور باہر سے صفائی فرماتے۔(ابوداؤد )8 رسول کریم نہاتے ہوئے پہلے استنجاء کرتے پھر وضوء کرتے۔پھر تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے پہلے دائیں پھر بائیں اور پھر سارے جسم پر۔اس طرح خوب اچھی طرح جسم صاف کرتے تھے۔( بخاری )9 حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔رسول کریم کو (ہر اچھا ) کام دائیں طرف سے شروع کرنا پسند تھا۔جوتا پہلے دایاں پہنتے کنگھی دائیں طرف سے کرتے ، وضو بھی دائیں سے شروع کرتے۔غرض کہ ہر کام میں دائیں کو تر جیح دیتے۔(اسی طرح نہانے ، بال منڈوانے وغیرہ امور میں )۔( بخاری ) 10 صفائی کے لئے آپ بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔نبی کریم کا یہ دستور تھا کہ جن باتوں کی تلقین فرماتے۔سب سے پہلے خود اس پر عمل کر کے دکھاتے۔چنانچہ اکثر با وضوء رہنے کی کوشش کرتے نسل کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔جمعہ کے دن خاص طور پر غسل کرتے اور اس کی تلقین فرماتے۔